خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 175

خطبات ناصر جلد دہم ۱۷۵ خطبہ عیدالاضحیه ۵/جنوری ۱۹۷۴ء عیدالاضحیہ خدا کے حضور قربانیاں پیش کرنے کی یاد تازہ کرتی ہے خطبہ عیدالاضحیه فرموده ۵ /جنوری ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصی ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جلسہ سالانہ کے بعد مجھ پر انفلوئنزا کا شدید حملہ ہوا تھا جس کا اثر ابھی تک باقی ہے لیکن بعض دفعہ دوستوں کی ملاقات بھی شفا کا موجب بن جاتی ہے۔اس لئے میں عید کی نماز پڑھانے کے لئے یہاں آ گیا ہوں تا کہ احباب کو اس رنگ میں عید کی مبارک باد کہوں جس کا ابھی میں مختصراً ذکر کروں گا۔یوں تو پہلے نبی سے لے کر بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک نوع انسانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی کامل شریعت کی ذمہ داریوں کو اُٹھانے کی تربیت دینے کا کام کسی نہ کسی رنگ میں جاری رہا لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے اس تربیت کے کام میں خاص طور پر شدت پیدا ہوگئی۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور پھر آپ کی اولا د نے اس خطہ ارض میں جہاں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مقدر تھی اور اس قوم کو جس نے اپنے کندھوں پر سب سے پہلے اس بار عظیم کو اُٹھا نا تھا، اس کی تربیت کے کام کو پورے زور کے ساتھ جاری رکھا اور ہزاروں سال کی تربیت کے بعد عرب کے مکینوں کو فطری قومی کے لحاظ سے اس قابل بنایا کہ وہ