خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 121 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 121

خطبات ناصر جلد دہم ۱۲۱ خطبہ عید الاضحیہ ۱/۲ پریل ۱۹۶۶ء میرا بچہ بھوکا اور پیاسا مر جائے گا۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ بتانے کے لئے کہ میں اس نسل میں روحانیت کا ایک چشمہ جاری کر رہا ہوں ایک ظاہری چشمہ بھی وہاں جاری کر دیا۔جس کو اب ہم زمزم کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اس طرح ان دونوں کی زندگی کے سامان پیدا کر دیئے۔کیونکہ گوصرف پانی سے ہی انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔مگر ان علاقوں میں جہاں پانی نکل آئے آبادیاں ہو جاتی ہیں اور اس طرح کھانے کا بھی انتظام ہو جاتا ہے۔پس آپ کی جسمانی تربیت کی کلیہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لے لی اور اس طرح یہ ثابت کر دیا کہ وہ باتیں جو انسان کے اختیار میں نہیں۔خدائے بزرگ و برتر ان پر بھی قادر ہوتا ہے۔غرض اس خاندان نے وقف اور وفاداری اسلمتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرۃ : ۱۳۲) کی ایک زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والی مثال اس دنیا میں قائم کر دی اور آپ کے اسوہ کو یا درکھنے ، زندہ رکھنے اور قائم و دائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ میں اس عید الاضحیہ کو جاری کر دیا اور اس طرح امت مسلمہ کو ایک سبق دیا کہ دیکھو تمہارے آباء میں اور پھر ان کی نسل میں ایک بیج بویا گیا تھا۔اب وقت آگیا ہے کہ یہ بیج ایک درخت کی شکل میں دنیا پر ظاہر ہو اور ساری دنیا اس کے سایہ تلے آرام حاصل کرے۔چنانچہ وہی نمونہ جو اس وادی غیر ذی زرع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان نے دنیا کو دکھایا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دنیا کو دکھایا۔مگر زیادہ شان کے ساتھ انہوں نے اپنی گردنیں اسی طرح مخالفین کی چھری کے نیچے رکھ دیں۔جس طرح بھیڑ ، بکری، گائے اور اونٹ کو ذبح کے وقت اپنی گردنیں چھری کے نیچے رکھنی پڑتی ہیں۔پھر دیکھو جانور مجبور ہو کر اپنی گردن چھری کے نیچے رکھتا ہے۔لیکن صحابہ کرام نے خوشی اور بشاشت کے ساتھ اپنی گردنیں خدا تعالیٰ کی راہ میں کٹوائیں اور اس طرح انہوں نے اس سبق کو یا د رکھا اور اپنے عمل سے دہرا دیا۔جو کئی ہزار سال پہلے سکھایا گیا تھا۔اس طرح جب انہوں نے اپنے آپ کو کلیۂ خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا۔تو خدا تعالیٰ نے بھی اپنی وہ نعمتیں ان پر نازل کیں جن کی مثال اس دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔خدا تعالیٰ نے انہیں ساری دنیا کا رہبر بنادیا۔خدا تعالیٰ نے انہیں ساری دنیا کا معلم بنا دیا۔خدا تعالیٰ نے انہیں ساری دنیا کا پیار کرنے والا باپ