خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 755 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 755

خطبات ناصر جلد دہم ۷۵۵ خطبہ نکاح ۲۱ جنوری ۱۹۷۷ء جا رہی ہے۔ان دو یعنی دولہا اور دلہن کی ذمہ داریاں اپنی اپنی جگہ علیحدہ علیحدہ ہیں۔بچی پر تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے ہر دو قسم کی ذمہ داریاں ہیں۔اللہ تعالیٰ اسے توفیق دے کہ وہ ہر دو ذمہ داریوں کو نباہ سکے اور بچے پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مجبور کر کے اپنی بیوی سے کوئی ایسی بات نہ کروائے جو ہماری خاندانی روایت اور انسانیت کے خلاف ہو۔پس ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی توفیق عطا کرے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والا ہو۔غرض پہلا نکاح جس کا میں اس وقت اعلان کر رہا ہوں عزیزہ امۃ السبوح صاحبہ بنت مکرم محترم سید داؤ د مظفر شاہ صاحب ساکن ربوہ کا ہے جو پانچ ہزار روپے حق مہر پر عزیزم مرزا مسرور احمد صاحب ابن مکرم مرزا منصور احمد صاحب ( ناظر اعلیٰ ) سے قرار پایا ہے اور دوسرا عزیزہ امتہ الود و د صاحبہ بنت مکرم مرز اظفر احمد صاحب کراچی کا نکاح ہے جو پچاس ہزار روپے حق مہر پر عزیزم مظفر احمد خان صاحب ابن مکرم خواص خان صاحب ساکن پشاور سے قرار پایا ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان رشتوں کو بہت ہی بابرکت کرے۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۱۱ / فروری ۱۹۷۷ ء صفحه ۳)