خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 641
خطبات ناصر جلد دہم ۶۴۱ خطبہ نکاح ۹ جولائی ۱۹۷۳ء ملینٹئیر (Millionair) لکھ پتی تو خلفائے راشدین کے زمانہ میں پیدا ہو گئے تھے۔وہ لوگ جن کو تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے نہیں ملتے تھے انہی میں سے بعض کو بعد میں ہم نے تاریخ کے آئینہ میں یہ دیکھا کہ انہوں نے ایک ایک وقت میں ایک ایک لاکھ اونٹ کا سودا کیا۔اب ایک لاکھ اونٹ بہت بڑی چیز ہے۔اگر ایک اونٹ کی قیمت پانچ سو رکھی جائے تو آپ ضرب دے کر دیکھ لیں کیا قیمت بنتی ہے۔یہ تو ایک سودا ہے جو صبح کے وقت منڈی میں جا کر کیا اور کئی گناہ زیادہ نفع کمالیا لیکن اس ساری دنیا کے باوجود انہوں نے خدا کے پیار کو حاصل کیا۔دنیا جو انہوں نے حاصل کی۔اس دنیا کی نعمتیں اور دنیا کے اموال کی وجہ سے ان کا تعلق خدا اور اس کے رسول سے منقطع نہیں ہوا بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں خدا سے ان کا تعلق اور پختہ ہوا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ان کو اور زیادہ ملا۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وہ وارث ہوئے۔پس اسلام نے دنیا کے حصول پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔لیکن کرم خوردہ دنیا جس میں کیڑے چل رہے ہوں اس کے حصول پر پابندی لگائی ہے۔ہماری جماعت میں بھی اللہ تعالیٰ نے دولت کی بڑی فراوانی رکھ دی ہے۔آج سے پچیس تیس سال پہلے جو چیز ( میں جماعت کی مجموعی حیثیت لے رہا ہوں خاندانوں یا افراد کو نہیں لے رہا ) جماعت کے تخیل میں بھی نہیں آسکتی تھی۔اس سے کہیں آگے بڑھ گئے۔آج سے کوئی تیس پینتیس سال پہلے کی بات ہے جب تحریک جدید کا اجرا ہوا تو بہت بڑی سکیم حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس وقت کے لحاظ سے بیان کی کہ ایک لاکھ روپیہ جماعت چندہ دے۔جماعت نے اس وقت ایک لاکھ سے کچھ زائد چندہ دیا۔اس سے پہلے ہماری تاریخ میں یہ بھی آتا ہے کہ مجلس شوریٰ پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو جماعت کو توجہ اس طرف دلانی پڑی کہ چار مہینے سے صدرانجمن احمدیہ کے کارکنوں کو تنخواہیں نہیں ملیں۔جب کہ ان کی تنخواہوں کا ماہانہ بجٹ چند ہزار سے زیادہ نہیں تھا۔ہم اس دور سے بھی گذرے ہیں۔پھر ایک لاکھ روپے کے دور سے بھی گذرے ہیں اور اب اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہے کہ پچھلے سال شوری نے ایک خاص مد قائم کر کے ایک لاکھ روپے اس میں آمد رکھی۔( یہ اس سال کی شوری سے پہلے کی بات ہے ) بیت المال والے بڑے گھبرائے ، مجھے کہنے لگے جماعت سے