خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 604 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 604

۶۰۴ خطبہ نکاح ۲۲ ؍ جولائی ۱۹۷۲ء خطبات ناصر جلد دہم اس وقت دو رشتوں کا اعلان کیا جائے گا۔پہلا نکاح تو عزیزہ بچی امتہ السمیع صاحبہ راشدہ کا ہے۔جو مکرم محترم ابوالعطاء صاحب جالندھری کی صاحبزادی ہیں۔ان کا نکاح عزیزم مکرم منصور احمد صاحب شاہد ابن مکرم ملک غلام احمد صاحب ارشدر بوہ سے دو ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔دوسرا نکاح عزیزہ بچی ناہید صاحبہ بنت مکرم شیخ عبدالواحد صاحب لا ہور کا ہے جو عزیزم مکرم ڈاکٹر عبدالرؤف غنی صاحب سے پانچ ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے۔ڈاکٹر رؤف صاحب مکرم بابو عبد الغنی صاحب انبالوی مرحوم کے صاحبزادے اور واقف زندگی ہیں اور اس وقت نائیجیریا (مغربی افریقہ ) میں بطور واقف ڈاکٹر سلسلہ عالیہ احمدیہ کی طرف سے اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے۔انہوں نے اپنے بھائی مکرم عبدالرشید صاحب غنی پروفیسر ٹی آئی کالج کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔ایجاب وقبول کے بعد ان رشتوں کے بہت ہی بابرکت ہونے کے لئے حضور انور نے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔(روز نامه الفضل ربوہ یکم اکتو بر ۱۹۷۲ء صفحه ۵)