خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 590 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 590

خطبات ناصر جلد دہم ۵۹۰ خطبہ نکاح ۲۱ رمئی ۱۹۷۲ء ہر مرد کے کندھوں پر کچھ نئی ذمہ داریاں پڑتی ہیں اور وہ اسے نباہنی پڑتی ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چوہدری صاحب کونئی اور پرانی ذمہ داریوں کے نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔رشتہ ازدواج ہے بڑا نازک کیونکہ یہ بھی پیوند کی قسم ہے۔جس طرح قدرت کی کئی چیزوں میں ہمیں پیوند نظر آتا ہے اسی طرح ہمیں بنی نوع انسان میں میاں بیوی کا رشتہ نظر آتا ہے دو ہونے کے باوجود یکجان ہونا پڑتا ہے اور انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے انفرادیت کو کھونا پڑتا ہے۔اپنا اپنا وجود بھی ہے اور ہے بھی نہیں۔غرض اس رشتہ ازدواج میں بھی بڑا فلسفہ ہے یہ کیسے اور کیوں؟ میں اس سلسلہ میں اپنے علماء سے کہوں گا کہ وہ اصولاً تو یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس کا حکم دیا ہے۔اس لئے اللہ تعالی کی مختلف صفات لے کر ان پر بھی وہ غور کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس رنگ میں مظہر بنے کی ہدایت فرمائی ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ خالق ہے۔اب یہ دنیا سائنس میں اور بعض دوسری چیزوں میں جو آگے نکلی ہے تو یہ دراصل خلق کی صفت کا مظہر بن کر آگے نکلی ہے۔چنانچہ قرآنی محاورہ میں اس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ جو کچھ بھی پیدا کیا گیا ہے، وہ انسان کے لئے مسخر کر دیا گیا ہے۔یعنی لوگ اس پیدائش عالم میں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں اور ہدایتوں اور اصولوں کے مطابق بہت کچھ پیدا کر سکتے ہیں اور عملاً بہت کچھ پیدا کرتے ہیں۔اسلام سے باہر کی دنیا نے محاورے بنا لئے ہیں۔چنانچہ اب یہ کہتے ہیں کہ انسان بڑا کری ایٹو (Creative) ہے مگر یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے کہ جس کو انسان کے کان نے پہلی دفعہ سنا ہے انسان کے کان تو چودہ سو سال سے یہ سنتے چلے آرہے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا مظہر بھی ہے۔غرض لوگوں نے اپنا محاورہ بنالیا ہے کہ انسان بڑا کری ایٹو (Creative) ہے مگر یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اصول کے اندر رہتے ہوئے ہے اس سے باہر نہیں کیونکہ انسان قانون قدرت کے باہر جاہی نہیں سکتا۔گوسائنسدان بہت باریکیوں میں گئے ہیں اور انہوں نے ایٹم کی طاقت کو دریافت کیا ہے لیکن وہ خود ایٹم کو بنالیں یا آگے جن اجزا سے وہ بنا ہے ان اجزا کو بنالیں کہ یہ