خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 36
خطبات ناصر جلد دہم ۳۶ خطبہ عیدالفطر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء کا تو یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا شاید الفاظ اسے ٹھیک طور پر بیان نہ کر سکیں لیکن اس سے بھی بڑھ کرسستا سودا ہمارا ہمارے رب کے ساتھ ہے کہ نہ صرف ہم نے جو اس کے حضور پیش کیا وہ بھی اس کی عطا تھی بلکہ پیش کرنے کی طاقت اور یہ جذ بہ جو ہمارے دل میں پیدا ہوا کہ ہم اس کی محبت اور رضا کو حاصل کریں یہ بھی اسی کی توفیق سے ہوا۔ہم نے اس کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کیا ہم دعاؤں میں لگے رہے اور جب رمضان ختم ہوا تو خدا نے ہمیں کہا تم خوش ہو اور خوشی سے اچھلو اور خوشی سے اپنے وجود کو بھر لو کہ تم ایک درجہ میں کامیاب ہو گئے۔تمہارے پہلے گناہ معاف کر دئے گئے ہیں اور نئی زندگی کا ایک زمانہ اور ایک دور تم پر آرہا ہے تم اس سے زیادہ رحمتوں کو حاصل کرنے کی آنے والے سال میں کوشش کرنا ابشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ تمہیں دنیا میں بھی ایک جنت کا وعدہ دیا گیا تھا وہ جنت تمہیں مل رہی ہے تمہیں استقامت ،صبر اور ثبات قدم دکھانا پڑے گا تاکہ ساری زندگی یہ جنت تمہارے ساتھ رہے اگر تم کسی وقت خدا کی معرفت کے حصول کے بعد شیطانی وسوسوں کے نتیجہ میں خدا کی بجائے شیطان کی طرف مائل ہوجاؤ یا کچھ خدا کو پہچانو اور کچھ شیطان کو پہچا نو تم کچھ اللہ کی قدر کرو اور کچھ اس کی قدر کرو جس کی اللہ کی نگاہ میں کوئی قدر ہی نہیں تو پھر تم سے جنت واپس لے لی جائے گی لیکن بہر حال خدا کہتا ہے کہ میں رمضان کی مخلصانہ دعاؤں کو قبول کرتا ہوں اور تمہارے لئے خوشیوں کے سامان پیدا کرتا ہوں۔یہ عید ہے جس کے منانے کے لئے ہم آج جمع ہوئے ہیں خدا کرے کہ ہماری نہایت ہی حقیر قربانیاں ہماری اس استقامت کی کوشش کے نتیجہ میں قبول ہو جائیں جو ہم نے کی۔استقامت بڑا ہی اہم اور بڑا ہی مشکل کام ہے۔اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں لیکن یہ معمولی کام بھی نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ( نے ) بہت جگہ اس کے متعلق بیان فرمایا ہے میں اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ایک مختصر سا اقتباس اپنے بھائیوں کے سامنے اس وقت پیش کر دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔کمال استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں اور خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبرو کو معرض خطر میں پاویں اور کوئی تسلی دینے والی بات موجود نہ ہو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ بھی امتحان کے طور پر تسلی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند