خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 35
خطبات ناصر جلد دہم ۳۵ خطبہ عیدالفطر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء کہ یہ لوگ میرے بڑے ہی محبوب اور پیارے بندے ہیں۔یہ مجھ سے چمٹ گئے ہیں اور اب تم ان کو میرے دامن سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔نیز دنیا کو دکھانے کے لئے اور ان کو سبق دینے کے لئے کہ میں اپنے بندوں پر بلائیں بھی نازل کرتا ہوں انہیں بلاؤں میں ڈالتا ہے۔وہ خاموشی بھی اختیار کرتا ہے اور ماں کی طرح کبھی یہ بھی کہ دیتا ہے کہ جاؤ میں تم سے ناراض ہوں اور اس ناراضگی کے آثار کے پیچھے مسکراہٹیں جھلک رہی ہوتی ہیں۔دیکھنے والی آنکھ وہ دیکھتی ہے لیکن دنیا سی سمجھتی ہے کہ خدا اس سے کلام کرتا تھا لیکن آج وہ اس کو بھول گیا۔اللہ تعالیٰ اس پر رحمت اور پیار کی نگاہ رکھتا تھا لیکن آج ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا لیکن اس نے اس سے منہ اس لئے نہیں پھیرا کہ وہ اس سے ناراض تھا اس نے اس سے منہ اس لئے نہیں پھیرا کہ اس کو اور دنیا کو اس امتحان اور غصہ کے پیچھے اور ان آفات کے ماورا خدا کا پیار اور رضا نظر نہ آئے وہ اپنا غصہ بھی دکھاتا ہے اور انسان کو آزماتا بھی ہے اور اس سے وہ دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ میرا حسن اور احسان اور میری محبت اور میری رضا ایسی زبردست تاثیر رکھنے والی ہے کہ جب وہ کسی انسان کو مل جاتی ہے تو وہ اس کے بعد مجھ سے پرے نہیں ہوتا۔دنیا جو چاہے کرے وہ اس کو میرے دامن سے چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ ہے استقامت۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رمضان آیا تم نے روزے رکھے رمضان آیا تم نے خلوص نیت کے ساتھ راتوں کو اٹھ کر میری تسبیح اور میری تحمید کی اور میرے ذکر میں تم مشغول رہے۔رمضان آیا۔تم نے نفس کی خواہشات کو میری خاطر رو کے رکھا اور ان کو اپنا غلام بنا یا۔تم اپنے نفس کی ان خواہشات کے خود غلام نہ بنے۔رمضان آیا اور تم نے میری چلائی ہوئی اندھیریوں کی طرح اپنے اموال کو مستحقین میں لٹایا اور سب دے دلا کر تم نے محسوس کیا کہ یہ خدا کا تھا۔خدا کی رضا کے لئے ہم نے یہ چیز اس کو دی اور یہ گھاٹے کا سودا نہیں بلکہ بڑے نفع کا سودا ہے کہ ہم نے جو دیا وہ بھی اس سے لے کر ہم نے دیا ہے یہ ایسی بات ہے کہ آپ کسی دکاندار کے پاس جائیں اور وہ عید منانے کے لئے پانچ سوروپیہ کا کپڑا آپ کو دے اور جب آپ کپڑا پھڑ وا چکیں تو وہ چپ کر کے آپ کی جیب میں پانچ سورو پیہ ڈال دے اور آپ اسی کی رقم اسے دے کر وہ کپڑا لے آئیں اور یہ سراسر فائدہ کا سودا ہے گھاٹے