خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 395
خطبات ناصر جلد دہم ۳۹۵ خطبہ نکاح ۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء ربوبیت کی صحیح اور حقیقی ذمہ داری اللہ نے اپنے پر لی ہے خطبه نکاح فرموده ۲۳ مارچ ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مکرم لال خان صاحب کے نکاح کا اعلان فرمایا جو مکر مہ امتہ اللطیف بنت مرزا برکت علی صاحب مرحوم سے ہوا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآن کریم کی تین آیات عام طور پر خطبہ نکاح کے وقت پڑھی جاتی ہیں۔پہلی آیت جو پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہے۔يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ (النِّسَاء :٢) اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہمارا اللہ ہمارا رب ہے۔ربوبیت کی صحیح اور حقیقی ذمہ واری اس نے اپنے پر لی ہے۔رب کے معنی ہیں پیدا کرنے والا۔پیدائش کے بعد جو قو تیں اور استعداد میں اس نے مخلوق میں رکھی ہوں ان کے مطابق نشو و نما کے سامان پیدا کرنے والا نشو ونما کی توفیق دینے والا تا کہ اس کی مخلوق وہ حاصل کر لے جو اس نے اپنی مخلوق کے لئے مقرر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت ہی ترقیات کے لئے پیدا کیا ہے۔جسمانی بھی اور روحانی بھی اور اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ میں نے اس ربوبیت کے نظام میں ازدواجی تعلقات بھی رکھے ہیں۔ان ازدواجی تعلقات کے