خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 332

خطبات ناصر جلد دہم ۳۳۲ خطبہ نکاح ۲۹ نومبر ۱۹۶۶ء الہامات بھی ہوئے جن میں سے ایک الہام یہ ہے کہ ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر“ اس میں یہ اشارہ تھا کہ الہام إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا کے ایک سے زیادہ بار ہونے کی وجہ سے الجھنے کی ضرورت نہیں جس امتحان میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری نسل کو گزرنا پڑے گا وہ امتحان حالات کے بدل جانے کی وجہ سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بُعد زمانہ کی وجہ سے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تربیت یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے پہلی نسل کے مقابلہ میں ان کے احساس کے لحاظ سے بھاری ہوگا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اگر تم اپنی تطھیر چاہتے ہو۔اگر تم چاہتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی نظر میں پاک قرار دیئے جاؤ اور گندگی اور گندگی کے سرچشمہ شیطان کی طرف منسوب نہ کئے جاؤ تو تمہیں اس قربانی کے امتحان کو قبول کرنا پڑے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس الہام کی مزید تشریح فرماتے ہوئے الہام فرمایا۔يايُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ - اس الہام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں کہ اس میں تفہیم یہ ہوئی کہ اے اہل بیت کسی دوسرے کو تکیہ گاہ مت بناؤ وہی خدا تیرا متکفل اور رازق ہے جس نے تجھے پیدا کیا“ اس الہام میں اہل بیت کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ اگر تم رجس سے پاک اور مطھر ہونا چاہتے ہوتو تو حید خالص کے مقام کو مضبوطی سے پکڑنا اور خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور ذات کو تکیہ گاہ نہ بنانا اور یقین کامل رکھنا کہ وہی خدا تمہارا متکفل اور رازق ہے جس نے تمہیں پیدا کیا دنیا کے لحاظ سے بھی تمہیں خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔اس الہام کے ساتھ ہی اور اسی روز ایک اور الہام ہوا کہ يا يُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ اللهَ خَلَقَكُم - یعنی اے اہل بیت خدا سے ڈرو اس کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام