خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 286
خطبات ناصر جلد دہم ۲۸۶ خطبہ نکاح ۲۷ رمئی ۱۹۶۶ء قدرت ایک وسیع پروگرام کے ماتحت ظاہر ہوتی ہے اور اس کے ہر پروگرام کے لئے ایک میعاد مقرر ہے۔جس چیز کو اللہ چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جسے چاہتا ہے قائم کرتا ہے اور اس کے پاس تمام احکام کی جڑھ اور اصل ہے۔پھر آپ نے فرمایا :۔اللہ عز وجل کے حکم سے میں فاطمہ کا نکاح علی بن ابی طالب سے پڑھ رہا ہوں۔چارسو مثقال چاندی مہر پر بشرطیکہ علی راضی ہو۔“ میں نے کوشش کی ہے کہ صحیح اور قابل فہم مطلب اور مفہوم اس خطبہ نکاح کا اپنے بھائیوں کے سامنے پیش کروں۔جب میں نے اس پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ اتنے وسیع مضامین اور مطالب ان چند الفاظ میں پائے جاتے ہیں کہ عقل انسانی حیران رہ جاتی ہے۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ حضرت فاطمہ کا نکاح حضرت علی سے کر دوں۔یہ ایک انفرادی حکم ہے اور خدا تعالیٰ کا ہر انفرادی حکم اس کے مقرر کردہ قواعد کلیہ کے ذریعہ ظہور پذیر ہوتا ہے۔اس لئے میں دونوں فریق کو بھی اور دیگر تمام سننے والوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی تعلقات کے متعلق قرآن کریم ، شریعت اسلامیہ، میں ایک نہایت پاکیزہ اور نہایت اعلیٰ درجہ کی حسین تعلیم نازل کی۔پس جب تم ازدواجی تعلقات قائم کرو تو یاد رکھو کہ یہ تعلقات دو طرفہ ہیں۔اس لحاظ سے کہ دو خاندانوں کے درمیان قائم در ہے ہیں اور اس لحاظ سے بھی کہ ایک طرف تو میاں بیوی کے آپس کے تعلقات ہیں اور دوسری طرف دوخاندانوں کے باہمی تعلقات ہیں۔ہور۔ان تعلقات کے نباہنے میں کامیابی کا گر اور راز صرف اور صرف یہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت پر غور کرو اور اس کے مطابق جہاں دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں عمل کرنے کی کوشش کرتے ہو وہاں ان معاملات میں بھی ان ہدایات کو اپنے سامنے رکھوتا اللہ تعالیٰ تمہاری کوششوں میں اور تمہارے تعلقات میں برکت ڈالے اور ان تعلقات کو ہر لحاظ سے باہمی برکت اور محبت کا موجب بنائے اور تم خدا کی رضا کو حاصل کرنے والے بنو۔پھر تمہیں یہ بھی سمجھ آئے گا