خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 263

خطبات ناصر جلد دہم ۲۶۳ خطبہ نکاح ۲۶ فروری ۱۹۶۶ء جو بیوہ ہونے کی حالت میں بڑے ہونے کی حالت میں بُرے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کرلے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے۔ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتا ہے۔جس عورت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پیارا ہے۔اس کو چاہیے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایمان دار اور نیک بخت خاوند تلاش کر لے اور یاد رکھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔66 یہ نکاح جس کے اعلان کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں ہماری ایک احمدی بہن کا ہے جو قریباً تین سال کا عرصہ ہوا بیوہ ہو گئی تھیں۔ان کا خاوند فوت ہو گیا تھا۔دو ماہ کا عرصہ ہوا مجھے اس کا علم ہوا یہ بہن ایک پرانے اور مخلص احمدی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور ہمارے بزرگ محترم قاضی محمد عبداللہ صاحب کے حقیقی بھیجے کی بیٹی ہیں مجھے خیال ہوا کہ ان کا دوبارہ نکاح کر دینا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کر دیے کہ جلد ہی ان کے نکاح کا انتظام ہو گیا۔خدا کرے کہ وہ احمدیت کے لئے بھی اور اپنے سسرال اور میکہ ہر دوخاندانوں کے لئے ولی ہی ثابت ہوں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب اور قبول کرایا اور اس رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربوه ۱۸ / مارچ ۱۹۶۶ ، صفحه ۳)