خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 157

خطبات ناصر جلد دہم ۱۵۷ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ / جنوری ۱۹۷۲ء گے۔یہ میں اس وقت روزہ کی بات ضمنا کر رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلہ بھی بیچ میں آجاتا ہے یعنی جہاں تک آواز پہنچی ہے۔امام وقت یا خلیفہ وقت کے کہنے کے مطابق یا اس کے فیصلہ کے مطابق لوگ رمضان اور عید کریں گے خواہ ان کو چاند نہ بھی نظر آئے جس کا مطلب یہ ہے کہ اصولی طور پر فقہاء اس بات پر متفق ہو گئے کہ امام وقت رؤیتِ ہلال کی شہادت دینے والوں میں سے جن کی شہادت معتبر سمجھتا ہو۔اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔خواہ کہیں چاند نظر آئے یا نہ آئے۔تیسری بات یہ ہے کہ دنیا تو ایک چکر میں ہے۔ہماری صبح سورج کے طلوع کا وقت اور ہے اور حجاز کی صبح سورج کے طلوع کا وقت اور ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض کو قریباً گول بنا کر اور اس کا ایک خاص محور مقرر کر کے اسے حکم دیا کہ اسی محور پر چکر کاٹنا ہے۔اس سلسلہ میں اور بہت ساری چیزیں ہیں لیکن میں ان کی تفصیل میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔بہر حال جہاں تک طلوع و غروب آفتاب کا تعلق ہے ہمارے ہاں آج کل کم و بیش چھ بجے صبح سورج نکلتا ہے۔ویسے تو لاہور اور ہمارے ربوہ کا بھی سات آٹھ منٹ کا فرق ہے۔لیکن اصولاً اگر ہمارے ہاں چھ بجے سورج نکلتا ہے تو ہمارے وقت کے لحاظ سے مکہ مکرمہ میں قریباً دو گھنٹے بعد یعنی آٹھ بجے سورج نکلتا ہے اسی طرح ہمارے وقت کے لحاظ سے انگلستان میں گیارہ بجے سورج نکلتا ہے اور چونکہ یورپ اور انگلستان کے وقت میں نصف گھنٹے کا فرق ہے اس لئے یورپ میں ساڑھے چار گھنٹے بعد یعنی ساڑھے دس بجے سورج نکلتا ہے۔امریکہ اور ہمارے وقت میں قریباً بارہ گھنٹے کا فرق ہے۔چنانچہ یہاں چھ بجے صبح سورج طلوع ہوتا ہے تو وہاں کم و بیش چھ بجے شام سورج طلوع ہوتا ہے۔ایک معین وقت تو ویسے بھی کسی جگہ مقرر نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ سردیوں اور گرمیوں میں دن چھوٹے بڑے ہوتے رہتے ہیں اس لئے ہر جگہ کا وقت علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔پس اگر ہمارے ہاں چھ بجے صبح سورج نکلا تو مکہ مکرمہ میں آٹھ بجے نکلا، یورپ میں ساڑھے دس بجے نکلا، انگلستان میں گیارہ بجے نکلا اور امریکہ میں چھ بجے شام نکلا اور یہ قدرتی فرق ہے