خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 131
خطبات ناصر جلد دہم ۱۳۱ خطبہ عیدالاضحیہ ۲۷ فروری ۱۹۶۹ء یہ عید ہمیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیوں کے تین عظیم الشان نمونوں کی یاد دلاتی ہے خطبہ عید الاضحیه فرموده ۲۷ فروری ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ تلاوت فرمائیں۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ اُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : ۱۶۳، ۱۶۴) پھر حضور انور نے فرمایا:۔آج قربانیوں کی عید ہے اور اس عید پر لاکھوں شاید کروڑوں جانور اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کئے جاتے ہیں۔اگر ہم یہ سمجھیں کہ اس عید پر بکری، بھیڑ ، دنبے، گائے یا اونٹ کی قربانی دے کر ہم اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہیں تو ہم نے بہت گھاٹے کا سودا کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَن يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا (الحج: ۳۸) ان قربانیوں کے گوشت خدا تک نہیں پہنچتے۔اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اسے کسی چیز کی حاجت نہیں گوشت جس کا کھانے کے ساتھ تعلق ، جس کا زبان کی لذت کے ساتھ تعلق ، جس کا اس خطرہ کے ساتھ تعلق ہے کہ اگر جسم کو غذا نہ ملے تو کمزوری پیدا ہو جائے گی۔اس کی اس ابدی ازلی اور ساری قوتوں والے خدا کو کیا ضرورت ہے۔