خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 837
خطبات ناصر جلد دہم ۸۳۷ خطبہ نکاح ۵ /اکتوبر ۱۹۸۱ء مستقبل کی ذمہ داریوں کو وہ نباہ سکیں وہ کچھ اور تھیں اور اب زمانہ بدل کے کچھ کا کچھ بن گیا۔وہ انقلاب عظیم جس کی ہمیں بشارت دی گئی تھی اس کے آثار افق پر ہمیں نظر آرہے ہیں۔اس لئے آج باپ کی ذمہ داری مختلف ہے۔اس ذمہ داری سے جو ہماری ذمہ داری تھی بلکہ زیادہ احتیاط کے ساتھ۔زیادہ وسعتوں والی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی ذمہ داری اٹھانی ہے تا کہ احمدیت کی تربیت کا، وہ تربیت جس کا تعلق ساری دنیا کے ساتھ ہے بوجھ پڑے آنے والی نسل پر، تو ہر آنے والی نسل اس کو اٹھانے کے لئے تیار ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان چیزوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔آمین جس نکاح کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں وہ قرار پایا ہے ہماری ایک عزیزہ بچی ہیں۔منصورہ باسمہ ان کا نام ہے۔ان کے والد کا نام ہے عباس احمد خان۔یہ ہمارے چھوٹے پھوپھا جان نواب عبد اللہ خان صاحب کی پوتی ہیں۔ہماری پھوپھی نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ (سلمها اللہ تعالیٰ) کی یہ پوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چوتھی نسل شروع ہوگئی عزیزہ منصورہ باسمہ سے اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی یہ نواسی ہیں۔اس دوسرے رستے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ان کا تعلق ہے۔ذمہ واریاں دُہری ہیں۔انداز بھی دُہرا ہے ہمارے لئے بشارت بھی دُہری خاندان کے بچوں اور بڑوں کو سمجھنا چاہیے۔ان کا نکاح پچاس ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب کے صاحبزادے مکرم حمید الدین صاحب کے ساتھ۔ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب ساہیوال کے رہنے والے ہیں۔وہاں کے امیر بھی رہے ہیں کبھی۔لیکن جو ایک ہی خوبی مجھے دیکھنی پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں تک ظاہر کے حالات ہیں ایک مخلص احمدی ہیں۔ان کا بچہ بھی پیارا ہے مخلص ہے۔یہ کسی زمانے میں امریکہ میں بھی رہے جب میں گیا تھا وہاں تو میرے ساتھ بھی پھرتے رہے۔سلجھی ہوئی طبیعت کے ہیں۔ہر دو کی ذمہ داریاں ہیں۔جو خاوند ہے اس کی رجُل ہونے کے لحاظ سے اپنی ذمہ داریاں نباہنا نمبر ایک۔اور قوامُونَ عَلَى النِّسَاء ( النساء: ۳۵) کی حیثیت سے یہ ذمہ واری ہے کہ جو ذمہ واریاں