خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 836 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 836

خطبات ناصر جلد دہم ۸۳۶ خطبہ نکاح ۱/۵ کتوبر ۱۹۸۱ء اور بیوی کی خاوند پر۔اور دوسرے دونوں نے مل کر کچھ ذمہ داریاں نباہنی ہوتی ہیں جن کا تعلق ان کی اولاد سے ہوتا ہے۔جہاں تک اولاد سے تعلق ہے کچھ ذمہ داریاں بٹی ہوتی ہیں۔ماں بچے کو دودھ پلاتی ہے۔باپ نہیں پلاتا۔باپ گھر سے باہر بچے کا خیال رکھتا ہے کہ اس میں آوارگی نہ پیدا ہو۔عورت کی ذمہ داری گھر کی حدود کے اندر سے تعلق رکھتی ہے۔بہر حال بہت سی قسم کی نئی ذمہ داریاں پیدا ہو جاتی ہیں جو آیات ہم اس موقع پر پڑھتے ہیں اس قسم کی نئی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک تو ضروری ہے کہ يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ (النساء: ۲)۔یہاں آیت میں اِتَّقُوا اللہ بھی ہے اور بہت سے Context میں تقویٰ کا ذکر ہے لیکن اس آیت میں جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہے رب کا تقویٰ۔اور یہ رب کا تقویٰ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔تم دونوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔اسی طرح تم پر بھی ربوبیت کی ذمہ داریاں کچھ نئی پڑنے والی ہیں اور اسی صورت میں تم ادا کر سکو گے جب تم حقیقی رب ، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو گے۔دوسرے یہ کہ یہ رشتہ بڑا نازک ہوتا ہے اور بہت سی غلط فہمیاں، بے احتیاطیوں کے نتیجہ میں پیدا ہو سکتی ہیں اور اس کے بچاؤ کے لئے ہمیں حکم دیا گیا قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب : ۷۱) کہ محض سچ سے یہاں کام نہیں بنے گا بلکہ ایسے بول جن میں کسی قسم کی کبھی نہیں ہوگی ، سیدھے ہوں گے۔اس راہ کو اگر تم اختیار کرو گے تو تمہارے درمیان کوئی Misunderstanding کوئی رنجش پیدا نہیں ہوگی۔اور تیسرے یہ کہ وَ لتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ( الحشر : ۱۹) تمہارے بڑوں نے مستقبل کا خیال رکھتے ہوئے تمہاری تربیت کی اور تم نے اپنے مستقبل کا خیال رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی تربیت کرنی ہے۔یہ جو مستقبل ہے جس کا تعلق اس تربیت سے ہے جو ماں باپ اپنے بچوں کی کرتے ہیں یہ ہر نسل کا علیحدہ مستقبل ہے۔یہ ایک ہی قسم کا مستقبل نہیں۔اس واسطے کہ دنیا اور دنیا کا معاشرہ حرکت میں ہے۔جو ہمارے بڑوں کی ذمہ داریاں تھیں ہماری تربیت کے لحاظ سے، وہ کچھ اور تھیں۔جو ہماری ذمہ داریاں تھیں اپنے بچوں کی تربیت کے لحاظ سے، کہ تا کہ