خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 835
خطبات ناصر جلد دہم ۸۳۵ خطبہ نکاح ۵ /اکتوبر ۱۹۸۱ء نکاح کے ساتھ لڑکے اور لڑکی پر بعض نئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں خطبہ نکاح فرموده ۱/۵ کتوبر ۱۹۸۱ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر محترم نواب عباس احمد خان صاحب کی صاحبزادی محترمہ منصوره باسمه صاحبہ کے نکاح کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت میں ایک نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔نکاح کے ساتھ لڑکی اور لڑ کے پر ایسی نئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو اس سے قبل ان پر عائد نہیں تھیں۔ہر شخص جو پیدا ہوتا ہے اور سن بلوغ کو پہنچتا ہے وہ بہت سی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہوتا ہے۔اس کے تعلقات اپنے گھر کے اندر ماں باپ سے، بھائی بہنوں سے اور خاندان کے دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ ہوتے ہیں اور اس کے تعلقات خاندان سے باہر اپنے ہمسایوں سے جو اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ ، اپنے بزرگوں کے دوستوں اور تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ذمہ داریاں ہیں جو ادا کرنی پڑتی ہیں لیکن نکاح سے قبل نہ لڑکی پر یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے خاوند کو سنبھالے۔نہ خاوند پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کسی گھر کی بچی کو وہ سنبھالے۔یہ نئی ذمہ داریاں پھر آگے دوشاخوں میں بٹ جاتی ہیں۔ایک تو میاں بیوی کی باہمی ذمہ داریاں ہیں یعنی خاوند کی بیوی پر