خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 834
خطبات ناصر جلد دہم ۸۳۴ خطبہ نکاح ۸ /اگست ۱۹۸۱ء عزیزہ مکرمہ امتہ الغفور صاحبہ جو مکرم محترم پیر معین الدین صاحب ساکن ربوہ کی صاحبزادی ہیں کا نکاح عزیزم مکرم سید قاسم احمد صاحب ابن مکرم محترم سید داؤ دمظفر شاہ صاحب ربوہ کے ساتھ قرار پایا ہے۔امتہ الغفور صاحبہ عزیزہ جو ہیں وہ امتہ النصیر میری ایک بہن ہیں ان کی صاحبزادی ہیں اور سید قاسم احمد صاحب ایک میری دوسری ہمشیرہ ہیں امتہ الحکیم، ان کے صاحبزادے ہیں اور یہ رشتہ طے پایا ہے میں ہزار روپیہ مہر پر۔سید قاسم احمد اس وقت جو ٹیچر وقف کرتے ہیں عارضی ہی یہ وقف ہے، وقف بھی ہے یعنی تین سال کا یا چھ سال کا، جتنی مدت چاہیں وہ کم از کم تین سال، اس مدت کے لئے وہ بطور واقف ٹیچر ، استاد کے نائیجیریا میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے سکولوں میں خدمت بجالا رہے ہیں اور اس لئے وہ یہاں اس وقت موجود نہیں۔انہوں نے ، جو مجھے اطلاع ملی ہے، فارم ان کو بھجوایا گیا تھا اس کے او پر دستخط کر کے بھجوائے ہیں۔( حضور نے مکرم محترم سید داؤ د مظفر شاہ صاحب سے دریافت فرمایا کہ دستخط کر کے بھجوائے ہیں نا؟) تو انہوں نے اپنے دستخطوں کے ذریعے تصدیق کی ہے اس رشتہ کی اور اپنی طرف سے اپنے والد مکرم محترم سید داؤ د مظفر شاہ صاحب کو بطور وکیل کے مقرر کیا ہے۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے حاضرین سمیت ہاتھ اٹھا کر دعا کرائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )