خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 792 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 792

خطبات ناصر جلد دہم پانی ہزار روپے حق مہر پر۔۷۹۲ خطبہ نکاح ۱۸/ نومبر ۱۹۷۸ء۔محترمہ نصرت شمیم صاحبہ بنت مکرم محمد صادق خان صاحب دارالعلوم شرقی ربوہ کا نکاح محترم را نا مبشر احمد صاحب ابن مکرم محمود احمد خان صاحب ساکن چک نمبر ۸۸ ج۔بضلع فیصل آباد سے پانچ ہزار روپے حق مہر پر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔یہ آیات کریمہ جو نکاح کے اعلان کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں۔ان میں ایک ضروری ہدایت جس کی طرف ہمیں توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم تقوی اللہ اختیار کرو۔قول سدید کے پابند ہوتا کہ تمہارے اعمال ہر قسم کے فسادات سے پاک ہو جائیں اور تم اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے وارث بن جاؤ۔انسان اس دنیا میں تمدنی اور معاشرتی زندگی گزارنے والا حیوان ہے۔چنانچہ ایک دوسرے کے ساتھ جو تعلقات قائم ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ وہ سارے کے سارے قول سدید پر قائم ہوں گویا ایک دوسرے کے ساتھ Communications(کمیونیکیشنز ) کی بنیاد انسانی قول یا بیان پر ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن: ۵) یعنی خدا تعالیٰ نے انسان کو بیان سکھایا ہے جو آپس میں تعلقات قائم کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔پس اصل چیز وہ انسانی آواز یا زبان سے ادا ہونے والا لفظ یا بول ہے جسے بعد میں انسان نے اپنی ضروریات اور سہولت کے لئے حروف اور تحریر میں تبدیل کر لیا ہے۔اسی لئے جب ہم ساری دنیا کی مختلف زبانوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں ایسی زبانیں بھی ملتی ہیں جو بولی تو جاتی ہیں مگر ابھی تک لکھی نہیں جاتیں۔افریقہ میں جب میں دورے پر گیا تو وہاں بہت سے ایسے قبائل میرے علم میں آئے کہ جو زبان وہ بولتے تھے وہ بولی تو جاتی ہے تحریر میں نہیں آتی لیکن دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جو تحریر میں ہو اور بولی نہ جائے۔دنیا میں ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں صرف تحریر سے انسان ایک دوسرے پر اپنا مافی الضمیرا دا کر رہا ہو۔پس اصل چیز بیان ہے۔آپس میں باتیں کرنا ہے جس کی خدا تعالیٰ نے انسان کو طاقت دی