خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 57

خطبات ناصر جلد دہم ۵۷ خطبہ عیدالفطر ۸/نومبر ۱۹۷۲ء ایک اچھی لذیذ دعوت پچھلے پہر کے نوافل کی صورت میں مہیا فرمائی۔بعض آدمی جو بیماری کی وجہ سے اٹھ نہیں سکتے انہیں کہا کہ بیٹھ کر پڑھو، لیٹ کر دعا ئیں کرو، تمہارے لئے ہر خوشی کا سامان پیدا کریں گے پھر ہر جمعہ کے دن ایک ضیافت پھر سال میں عید الفطر اور عید الاضحی کی دو ضیافتیں ملتی ہیں ان دونوں کے اپنے رنگ ہیں۔ایک جیسی ضیافت نہیں جس طرح ایک ضیافت میں پلاؤ زردہ اور قورما ہوتا ہے جو ہمارے ملک کا رواج ہے مستقل کھانے کھانے کی ایک روایت ہے جو ضیافتوں کے موقع پر نظر آتے ہیں اور ایک وہ ضیافت ہے جس میں نہ پلاؤ ہوتا ہے نہ زردہ ہوتا ہے بلکہ سکے ہوتے ہیں، کچوریاں ہوتی ہیں ، دہی بڑے ہوتے ہیں، اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں جو بہت سارے گھروں میں دعوتوں پر پیش کی جاتی ہیں پس جس طرح اس قسم کی ضیافتوں میں بڑا فرق ہوتا ہے اسی طرح ہماری دو عیدوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔یہ عید الفطر ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل کی مختلف رنگ میں نمائندگی کر رہی ہے۔اس کے بعد عید الاضحی آئے گی جو اس کے فضلوں کی دوسرے رنگ میں نمائندگی کر رہی ہوگی اس کو بڑی عید بھی کہتے ہیں۔یہ ایک بڑی ضیافت ہے کیونکہ اس کے لئے حسب توفیق قربانی بہر حال کرنی پڑتی ہے جن لوگوں کو خدا تعالیٰ توفیق دیتا ہے وہ مال حلال سے دُنبہ خرید کر قربانی دیتے ہیں اور قربانی کا گوشت کھاتے ہیں۔دُنیا میں عام طور پر یہ رواج ہے کہ دعوتوں پر پلاؤ ضرور ہوتا ہے، زردہ ضرور ہوتا ہے ، اگر نہ ہو تو کئی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ تم نے یہ کیسی دعوت کی ہے؟ یہ تو پکے رواجی کھانوں والی دعوتیں ہیں جن میں تبدیلی نہیں ہوتی۔مگر خدائے غفور و رحیم کی طرف سے جو ضیافت ہوتی ہے اس کے متعلق فرمایا کہ اس عید کے لئے قربانیوں میں مختلف رنگ پیدا کرو، تنوع پیدا کرو۔ہم تمہارے لئے جو روحانی خوان ہیں ان کے اندر تنوع پیدا کر دیں گے اور دراصل اس تنوع کا تعلق رمضان کی عید سے ہے۔ایک ہی مہینہ ہے ایک ہی گروہ ہے اس میں سے ایک حصہ مثلاً جو معتکف ہیں۔اب جو تیں معتکف بیٹھے ہیں آپ ان سے جا کر پوچھیں ہر ایک اپنی علیحدہ روحانی طور پر ملنے والی لذت بتائے گا۔اسی طرح حج سے آنے والوں سے پوچھیں وہ کہیں گے کہ جب طواف کیا تو بڑی لذت آئی۔طواف کے ساتھ وہ لذت مل گئی گویا اس کے ساتھ باندھ دی گئی۔حجر اسود کو پیار کیا تو وہی منکسرا نہ خیالات جو