خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 771 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 771

خطبات ناصر جلد دہم 221 خطبہ نکاح ۲۵ نومبر ۱۹۷۷ء ازدواجی رشتے درخت کے پیوند کی مانند ہوتے ہیں جنہیں شروع میں بڑا سنبھال کر رکھنا پڑتا ہے خطبہ نکاح فرموده ۲۵ نومبر ۱۹۷۷ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز مغرب اپنی ہمشیرہ محترمہ صاحبزادی امتہ الحکیم صاحبہ کے بیٹے سید مولود احمد صاحب کے نکاح کا اعلان فرمایا۔اس موقع پر خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ازدواجی رشتے درخت کے پیوند کی مانند ہوتے ہیں جنہیں شروع میں بڑا سنبھال کر رکھنا پڑتا ہے۔قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق اس پیوند کو قول سدید کے دھاگوں سے باندھنا پڑتا ہے تب جا کر اس کی حفاظت ہوتی ہے اور اس کی ذمہ داری نہ صرف ہر دو میاں اور بیوی پر بلکہ ان کے خاندانوں پر، ان کے ماحول پر اور ان کے دوستوں پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ بہت سی خرابیاں بدظنیوں کے نتیجہ میں یا چغلیوں کے نتیجہ میں یا بے صبری کے نتیجہ میں یا طیش کے نتیجہ میں پیدا ہو جاتی ہیں اور ان سب کو روکنے کے لئے قول سدید ایک بہت ہی مضبوط دھا گہ ہے۔خدا کرے کہ جس نکاح کا میں اس وقت اعلان کر رہا ہوں وہ ہر دوخاندانوں کے لئے بھی بابرکت ہو، جماعت کے لئے بھی بابرکت ہو اور انسانیت کے لئے بھی بابرکت ہو اور خادم دین نسل اس سے چلے۔