خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 766
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۲۵ رستمبر ۱۹۷۷ء حاصل کیسے کرو گی تم ؟ اس واسطے اپنے خاوند کی بات سن لیا کرو۔میں نے اس رنگ میں اس کو سمجھایا۔دو چار دن میں وہاں ٹھہرا تو اس کے خاوند نے مجھے بتا یا کہ اب وہ بات سننے لگ گئی ہے۔پس یہ بڑا عظیم مذہب ہے۔اس نے عورت کے بھی حقوق قائم کئے اور ان کی حفاظت کا سامان کیا اور مرد کے بھی حقوق قائم کئے اور ان حقوق کی حفاظت کا سامان کیا اور جواز دواجی رشتے قائم ہوتے ہیں ان کو کامیاب کرنے کے لئے بنیادی چیز یہی ہے کہ جہاں عورت اپنے حقوق مانگے وہاں وہ اپنے خاوند کے حقوق بھی ادا کرنے والی ہو اور جہاں خاوند بیوی سے اپنے حقوق ا منوائے وہاں وہ اس کے حقوق دینے کے لئے بھی تیار ہو۔اگر یہ ماحول ہو تو پھر کبھی آپس میں لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔ویسے تو میاں بیوی کبھی نہ کبھی لڑتے ہی رہتے ہیں لیکن ایسی رنجش پیدا نہیں ہوتی جو خرابی کا باعث بنے۔باقی پیار کی رنجشیں بھی ہوتی ہیں وہ ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ہماری دعا ہے کہ آج جو نیا ازدواجی رشتہ قائم ہو رہا ہے جس کا میں ابھی اعلان کروں گا ان کے بھی صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق اور اسلامی ہدایت کے ماتحت تعلقات قائم ہوں اور ان کا گھر بھی خوشحالی کا سر چشمہ بنے اور اردگرد بھی بھلائی اور نیکی کے پھیلانے والے ہوں یہ بھی اور ان کی نسلیں بھی۔کرائی۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے اس رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا روزنامه الفضل ربوه ۲۸ / نومبر ۱۹۷۷ ، صفحه ۲)