خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 765
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۲۵ ستمبر ۱۹۷۷ء اسلام نے مرد اور عورت دونوں کے الگ الگ حقوق قائم کئے ہیں خطبہ نکاح فرموده ۲۵ ستمبر ۱۹۷۷ء بمقام مسجد مبارک ربوہ حضور انور نے نماز مغرب کے بعد حسب ذیل نکاح کا اعلان فرمایا۔محترمه منصوره اقبال صاحبہ بنت مکرم نذیر احمد صاحب سولنگی ربوہ کا نکاح پچیس ہزار روپیہ مہر پر مکرم ملک غلام عباس صاحب ابن مکرم ملک شیر محمد صاحب ساکن ڈنگہ ( کا نڈیوال) سے۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلام کی یہ شان ہے کہ اس نے مرد کے حقوق بھی قائم کئے ہیں اور عورت کے حقوق بھی قائم کئے ہیں۔۱۹۶۷ ء میں جب میں جرمنی کے دورہ پر گیا تو وہاں ایک جرمن جو احمدی مسلمان ہو چکا تھا کی بیوی اسلام کی بڑی سخت مخالف تھی۔اس حد تک مخالفت اور تعصب تھا کہ وہ بات بھی نہیں سنتی تھی۔مجھے جب علم ہوا تو میں نے اس کے خاوند کو کہا کہ کل ریسیپشن ہے بہت سے غیر مسلم عیسائی، بڑے افسر وغیرہ بھی آرہے ہیں اپنی بیوی کو کسی طرح منا کر یہاں لے آؤ تو میں اس کو سمجھاؤں گا کہ وہ بات سن لیا کرے۔چنانچہ اگلے دن وہ آئی۔جب ریسیپشن ختم ہوئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ دیکھو اسلام نے خاوند پر بیوی کے بڑے حقوق قائم کئے ہیں۔اگر تمہیں پتہ ہی نہیں ہوگا کہ وہ کون سے حقوق ہیں جو اسلام نے قائم کئے ہیں تو اپنے خاوند سے و