خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 763
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۴ /اگست ۱۹۷۷ ء ازدواجی رشتہ کی مثال درخت کے پیوند کی ہے جس کی ابتدا میں بڑی حفاظت کی جاتی ہے خطبه نکاح فرموده ۴ را گست ۱۹۷۷ء بمقام مسجد مبارک ربوه سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز مغرب کے بعد مسجد مبارک ربوہ میں درج ذیل چار نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱۔محترمہ وحیده ناصر صاحبہ بنت مکرم محترم مرزا مشتاق احمد صاحب ناصرسا کن لاہور کا نکاح ۲۵ ہزار روپیہ مہر پر مکرم لئیق محمد خان صاحب ناصر ابن مکرم محترم عزیز محمد خان صاحب ساکن لاہور سے۔۲۔محترمہ روبینہ رحمت صاحبہ بنت مکرم محترم چوہدری رحمت اللہ صاحب ساکن ربوہ کا نکاح ۲۰ ہزار روپیہ مہر پر مکرم نثار احمد صاحب چوہدری ابن مکرم محترم کپٹن نصیر احمد چوہدری ساکن لائلپور سے۔محترمہ بشری عطاء صاحبہ بنت مکرم محترم چوہدری عطاء الہی صاحب مرحوم ساکن ربوہ کا نکاح ۲۰ ہزار روپیہ مہر پر مکرم عبد الصمد رفیق صاحب ابن مکرم و محترم چوہدری محمد صدیق صاحب چوہان ساکن ربوہ سے۔۴- محترمہ ریحانه فرحت صاحبه بنت مکرم محترم مرزا محمود احمد صاحب ساکن عبد الحکیم کا نکاح ۵ ہزار روپیہ مہر پر مکرم کرامت اللہ صاحب خادم مربی سلسلہ سے۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ازدواجی رشتے جو نکاح کے ذریعے قائم کئے جاتے ہیں ان کی مثال درخت کے پیوند کی