خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 721 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 721

خطبات ناصر جلد دہم ۷۲۱ خطبہ نکاح ۹ / مارچ ۱۹۷۶ ء اللہ تعالیٰ اس رشتے سے ایک ایسی نسل چلائے جو انسانیت کی خادم ہو خطبہ نکاح فرموده ۹ / مارچ ۱۹۷۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر محترمہ صاحبزادی امتہ العلیم عصمت صاحبہ بنت محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب قادیان کے نکاح کا اعلان فرمایا جو دس ہزار روپے حق مہر پر محترم نواب منصور احمد خاں صاحب ابن مکرم نواب زاده مسعود احمد خان صاحب ربوہ کے ساتھ قرار پایا ہے۔خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان بنایا ہے اور اس کی یہ ذمہ داری مقرر کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے والا بنے۔دراصل وہ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدة : ۳) کا جو حکم ہے وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے کیونکہ دین اسلام فطرت انسانی کا مذہب ہے۔یعنی اسلام کی ساری تعلیم اس غرض سے ہے کہ انسان کی تمام فطری طاقتیں اور صلاحیتیں کامل طور پر نشوونما پاسکیں۔اس غرض کے حصول کے لئے اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے مطابق مہدی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔جو افراد اس مہدی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کے اندر محض اس وجہ سے کوئی خصوصیت نہیں پیدا ہوجاتی لیکن ان کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں اور اگر اور جب وہ اپنی ان بڑھی ہوئی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے بنیں تو اسی کے