خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 720 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 720

خطبات ناصر جلد دہم ۷۲۰ خطبہ نکاح ۶ رفروری ۱۹۷۶ ء کر لے جاتے ہیں ، ان پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر اور جب ( اور خدا کرے ہمیشہ ہی ) یہ بچیاں نیک نمونہ بننے کی کوشش کریں تو ان کی راہ میں وہ روک نہ بنیں تا نیکی اور خوشحالی کا ماحول پیدا ہوتا چلا جائے۔اس وقت میں دو نکاحوں کا اعلان کروں گا۔ان میں سے ایک تو میری ماموں زاد ہمشیرہ عزیزہ امتہ البصیر صاحبہ کا ہے۔ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں رشتوں کو بہت برکتوں والا بنائے اور رحمتوں کا اور خوشحالیوں کا اور مسرتوں کا باعث بنائے۔۱۔عزیزہ امتہ البصیر صاحبہ جو میرے ماموں خلیفہ صلاح الدین صاحب مرحوم کی بچی ہیں ان کا نکاح ایک ہزار انگلستان کے سکہ یعنی برٹش پونڈ حق مہر پر عزیزم محمد ارشد احمدی ابن مکرم جلنگھ محمد یوسف صاحب احمدی کے ساتھ قرار پایا ہے جو ھم (یو۔کے ) کے رہنے والے ہیں اور حاضر ہیں۔لڑکی کے ولی ان کے بھائی عزیزم خلیفہ صباح الدین صاحب ہیں جو بطور وکیل نکاح یہاں موجود ہیں۔۲۔دوسرا نکاح عزیزه سیده را حیله منصور صاحبہ بنت مکرم سید منور حسین صاحب کراچی کا ہے جو دس ہزار روپے حق مہر پر عزیزم سید امجد بشیر صاحب ابن مکرم کرنل سید بشیر احمد صاحب ساکن ربوه سے قرار پایا ہے۔ایجاب وقبول کے بعد ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے حضور نے حاضرین سمیت ہاتھ اٹھا کر دعا کروائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۵ مارچ ۱۹۷۶ ء صفحه ۵)