خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 49 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 49

خطبات ناصر جلد دہم ۴۹ خطبہ عیدالفطر ۲۰ نومبر ۱۹۷۱ء پس جہاں اللہ تعالیٰ اپنے پیار سے آپ کو اور مجھے اپنے معجزات دکھاتا اور ہمیں اپنے خارق عادت پیار سے نوازتا ہے وہاں ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم کفران نعمت نہ کریں، ہم اس کے ناشکرے بندے نہ بنیں۔اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں دوسروں سے بڑھ کر ہم پر ڈالی ہیں ہم دوسروں سے کہیں زیادہ بشاشت کے ساتھ ان ذمہ داریوں کو نباہنے والے اور کہیں زیادہ خوشی کے ساتھ اس کی راہ میں قربانیاں دینے والے بنیں پھر یہ عید ایک نہ ختم ہونے والی عید ہے بڑا ہی بیوقوف ہوگا وہ شخص جو یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور آپ کے بعد تین صدیوں تک جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے امت مسلمہ پر کوئی ایسا دن بھی چڑھا جو عید کا دن نہیں تھا۔عید کا ہر دن نہیں، دن کا ہر گھنٹہ نہیں ، ہر گھڑی نہیں بلکہ ان کا ہر سیکنڈ عید تھا نئی سے نئی عید نئی سے نئی رحمتیں اور اللہ تعالیٰ کا نیا سے نیا پیار ان کو حاصل ہورہا تھا۔پھر وہی عید آ گئی ہے لوگ کریں یا نہ کریں یہ ان کا کام ہے مگر عید تو آگئی ہے وہ زمانہ پھر عود کر آیا ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جو پیار دیا اور ان کے لئے جو دعائیں کیں اور مصیبت کی گھڑیوں میں ان کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے فرشتوں کو طلب کیا تھا۔وہ دعائیں قبول ہو چکیں مہدی ظاہر ہو گیا۔عیسی دنیا کی طرف نازل ہو گیا اور آپ اس کی جماعت ہیں۔پس عید تو آگئی خدا تعالیٰ کا پیار آپ کو مل گیا۔آپ کی دعائیں قبول ہونے لگیں۔آپ میں سے کون ہے جو یہ کہے کہ خدا تعالیٰ کسی مومن کو سچی خواب نہیں دکھاتا آپ میں سے سینکڑوں نہیں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ایک نہیں دو نہیں دسیوں بیسیوں بلکہ بعض نے تو سینکڑوں ہزاروں دفعہ خدا تعالیٰ سے بشارت پا کر ویسا ہی ہوتے دیکھا جیسا کہ پہلے بتا یا گیا تھا۔غرض اپنے اپنے ظرف کے مطابق اور اپنی اپنی استعداد کے لحاظ سے ہر ایک نے وہ کچھ پالیا جس کے لئے مہدی کو مبعوث کیا گیا تھا یہ نعمت آپ کو مل چکی ہے۔عید کا چاند آپ پر طلوع ہو چکا ہے۔لیکن اگر آپ خود کو اور اپنی نسلوں کو ایسے غضب سے بچانا چاہتے ہیں کہ جس کی مثال خود خدا تعالیٰ کے کہنے کے مطابق دنیا میں نہیں ملتی تو پھر کفران نعمت کی کوئی گنجائش نہیں۔