خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 642 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 642

خطبات ناصر جلد دہم ۶۴۲ خطبہ نکاح ۹ جولائی ۱۹۷۳ء مالی تحریک کریں۔چنانچہ بعض مصلحتیں تھیں۔میں نے کہا تم کچھ نہ کرو۔جماعت میں میں نے اس طرح تحریک نہیں کرنی۔لیکن جب حالات اچھے ہوں گے میں تحریک کر دوں گا۔وہ سال گذر گیا۔بعض وجوہات ایسی تھیں کہ میں وہ تحریک نہیں کرنا چاہتا تھا۔لیکن جب وقت آیا تو آپ میں سے اکثر جو یہاں بیٹھے ہیں ان کو معلوم ہے کہ کوئی تحریک نہیں کی گئی۔نہ اخبار میں آیا نہ میں نے خطبہ دیا۔نہ جماعت کو تو جہ دلائی گئی۔کوئی اس قسم کی بڑے پیمانے کی تحریک اتنی چھوٹی سی رقم کے لئے کرنے کی مجھے ضرورت ہی نہیں پڑی۔میں نے کچھ خطوط افراد کو لکھے اور اس وقت میرا خیال ہے کہ چند ہفتوں کے دوران انجمن کے پاس اس مد میں ستر یا اسی ہزار کے قریب رقم جمع ہوگئی۔بحیثیت مجموعی جماعت کو یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ ایک لاکھ روپے جمع کرنے میں کوئی چندہ مانگا گیا یا دیا گیا۔بحیثیت مجموعی تو یہی شکل بنی کہ کسی کو پتا ہی نہیں کہ کوئی ایسی اپیل بھی ہوئی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی دولت دی ہے مگر خالی دولت ہی نہیں دی اگر ہماری صرف دولت میں برکت ہوتی تو ہمارے لئے فکر اور گھبراہٹ کی بات تھی لیکن اس کے مقابلہ پر روحانی لذات کا ایسا سامان پیدا کیا ہے کہ دنیا جماعت احمدیہ کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور ہو گئی ہے۔(ابھی ماننے پر مجبور نہیں ہوئی لیکن گھبرانے پر مجبور ہوگئی ہے ) ساری دنیا میں ، افریقہ میں ، انگلستان میں ، امریکہ میں۔خدا تعالیٰ کے پیار کے اتنے جلوے دیکھے اور اس کے نتیجہ میں اتنا پیار پیدا ہوا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کرے کم ہے۔خود یہ جو ایک انسٹی ٹیوشن (Institution) یا ایک سلسلہ ہے۔جس کو ہم سلسلہ عالیہ احمد یہ کہتے ہیں۔ہمارے لئے اس سلسلہ کی روح نظامِ خلافت ہے اور اس لحاظ سے خدا کا پیار حاصل کرنے والا پہلا آدمی تو میں ہوں۔گوساری جماعت خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرتی ہے لیکن جب اکیلے میں میں اپنے متعلق سوچتا ہوں تو میری تو گردن اتنی جھک جاتی ہے کہ مزید جھکنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔یعنی ہم اپنے نفس پر غور کریں ہم ہیں کیا چیز کسی سائنسدان نے ایک دفعہ کہا تھا کہ کسی انسان کا ٹھوس وجود ایک چنے کے برابر ہے۔باقی تو پانی ہے۔کچھ اللہ تعالیٰ نے ہوا بھر دی اور اس کو انفلیٹ (Inflate) یعنی پھیلا کر انسان بنادیا۔پھر اس کو ذہن دیا اور اس پر اپنے جلوے ظاہر کئے۔اور پھر وہ انسان یہ سمجھے کہ میں کچھ۔