خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 640
خطبات ناصر جلد دہم ۶۴۰ خطبہ نکاح ۹ جولائی ۱۹۷۳ء اسباب اور اس کی نعمتیں اور اس کی لذتیں اور سرور اپنے نفس میں کوئی چیز نہیں جب تک اس کے مقابلہ میں روحانی لذت اور سرور حاصل نہ ہو۔کوئی آدمی جتنا جتنا اپنی استعداد کے مطابق اور اپنے مجاہدہ کے نتیجہ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا تعلق قائم کرے گا اور آپ سے پختہ رشتہ استوار کرے گا اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کا حق دار ٹھہرے گا۔پس یہ مادی دنیا اپنے نفس میں کوئی شے نہیں۔اسے ایک ایسا نصف کہہ سکتے ہیں جس میں جان نہ ہو۔ایک ایسا جسم جو بغیر روح کے ہو یا ایک جسم جو نصف میں سے کاٹ دیا گیا ہو۔یا ایسا جسم جس کے نصف حصہ میں کیڑے پڑے ہوئے ہوں۔ایک چھوٹی سی مثال میں دوں گا تا کہ سامنے بیٹھے ہوئے بچے بھی سمجھ جائیں۔آج کل آموں کا موسم ہے ہر وہ آم جو خراب ہے اور جس کے نصف میں آپ کو کیڑے پھرتے نظر آرہے ہیں (ایسے کیڑے بھی آم میں پڑ جاتے ہیں میں نے خود ایسے کیڑے دیکھے ہیں )۔وہ آپ کبھی نہیں کھا ئیں گے اس آم کو کھانے کے لئے آپ کا دل نہیں چاہے گا۔یہ دنیا بھی محض ایک ایسا نصف ہے جس کے اندر کیڑے پڑے ہوئے ہیں۔اگر عالمین کا وہ دوسرا حصہ جو روحانی حصہ کہلاتا ہے، جس کا تعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کی وجہ بنتا ہے اور جس کے نتیجہ میں یہ دنیا پیدا کی گئی ہے۔وہ اگر نہ ہو تو یہ دنیا کچھ بھی نہیں ہے۔پس انسان کو اس دنیا میں محض دنیا کے حصول کے لئے اپنی زندگی نہیں گزارنی چاہیے بلکہ دنیا کے ایسے حصول میں زندگی گزارنی چاہیے جس سے خدا کا پیار مل جائے۔تاہم دنیا کمانے سے منع نہیں کیا گیا۔اس حدیث سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ دنیا اصل میں تو ایک مومن کے لئے پیدا کی گئی ہے۔جب وہ اس سے محروم کیا جاتا ہے تو میں یہ کہا کرتا ہوں کہ مومن کو اس کا بھی ثواب ملتا ہے کہ جو چیز اس کے لئے مقدر تھی اس میں اس کو حصہ نہیں دیا گیا۔کسی اور ظالم نے اس کا حصہ لے لیا۔چنانچہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ دنیا حاصل نہ کرو۔اسلام یہ کہتا ہے کہ اس عالمین کا نصف حاصل نہ کرو۔یعنی ایک ایسا جسم جس میں روح نہ ہو۔ایک ایسی مادی چیز جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کر رہی اسے حاصل نہ کرو۔جہاں تک قرب و رضائے الہی کے حصول کی خاطر دنیا کمانے کا تعلق ہے ہم دیکھتے ہیں کہ