خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 632
خطبات ناصر جلد دہم ۶۳۲ خطبہ نکاح ۲۰ را پریل ۱۹۷۳ء کے لئے اُمت محمدیہ کو قائم کیا گیا ہے اور اسی غرض کے لئے اب امت محمدیہ کے اندر جماعت احمد یہ کو قائم کیا گیا ہے تا کہ وہ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرے۔پس صرف زندگی یا موت انسانی پیدائش کا مقصد نہیں ہے انسانی پیدائش کا مقصد رضائے الہی کا حصول ہے۔نکاح یعنی رشتہ ازدواج سے نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔بچے پیدا ہوتے ہیں۔اس طرح زندگی اور موت کا چکر چلتا رہتا ہے۔انسان نے اس دنیا میں ہمیشہ تو زندہ نہیں رہنا ہوتا پچاس ساٹھ یا سو سال کے بعد بہر حال ہر کسی نے اس دنیائے فانی سے رخصت ہوجانا ہوتا ہے۔پس زندگی اور موت کے مختلف ذریعے ہیں۔رشتہ ازدواج ان میں سے ایک ہے۔یہ اپنے نفس میں مقصود حیات نہیں۔جو چیز تخلیق کائنات کا مقصود و مطلوب ہے اس کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ نباہنے کی کوشش کرنی چاہیے ذاتی طور پر بھی اور جہاں تک اولا د کا تعلق ہے ان کو بھی سمجھاتے رہنا چاہیے کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کے بندے بنیں۔ایسے بندے جو خدا تعالیٰ کی صفات حسنہ سے متصف ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نور کی چمکار دنیا کو دکھلانے والے ہوں۔تاکہ ان کے ذریعہ آج کا بھٹکا ہوا انسان پھر اپنے رب کریم کی طرف واپس لوٹے۔میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو جو احمدی ہیں یا احمدی بننے والے ہیں سب کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنے مقصود حیات کو پہچان کر اُس کی ذمہ داریوں کو نباہنے والے ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی ہیں اور جن کا دائرہ ہر رشتہ کے ساتھ اپنے اپنے دائرہ میں مزید وسعت اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔آمین۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کے بہت ہی بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت لمبی دعا کروائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )