خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 600 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 600

خطبات ناصر جلد دہم ۶۰۰ خطبہ نکاح ۱۰ / جون ۱۹۷۲ء پس انسانی وجود کا ایک حصہ الہی منشا اور الہی حکم کے اسی طرح تابع ہے جس طرح یہ شجر اور حجر یہ زمین اور آسمان اور یہ ستارے اور سورج تابع ہیں لیکن ایک حصہ پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی بخشی ہے اور فرمایا ہے تیرے سامنے دور ہیں ہیں۔ایک وہ راہ ہے جس پر چل کر تو میری رضا کو حاصل کر سکتا ہے اور دوسری وہ راہ ہے جسے اگر تو اختیار کرے گا تو میرے قہر کا مورد بن جائے گا۔اب یہ تیری مرضی ہے جس راہ کو تو چاہے اسے اختیار کر لے۔تاہم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے انسان! میں یہ چاہتا ہوں کہ تو اس راہ پر چلے جو تجھے میری رضا اور میری جنتوں کی وارث بنادے۔پس تجھے اسی راہ پر چلنا چاہیے جو تجھے میری رضا اور میری جنتوں کا وارث بنادے۔یہی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے لیکن جہاں تک انسان کی مرضی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اختیار دیا ہے کہ وہ نیکی اور برائی میں سے جس کو چاہے اختیار کرے وہ چاہے تو نیکی کے راستے کو اختیار کرے اور چاہے تو برائی کے راستے کو اختیا ر کرے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم اپنی مرضی چلا سکتے ہو وہاں پھر یہ بات ہمارے ہاتھ میں آجاتی ہے کہ ہم نوع انسانی کے درخت کو بحیثیت مجموعی خوبصورت بناتے ہیں یا نہیں۔ہم بھی ایک نئے پودے کی طرح ہیں جس پرنئی شاخیں اور کونپلیں نکلی ہوتی ہیں۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت پر جسے قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے عمل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قہر سے ڈرتے ڈرتے اپنی زندگیوں کے دن گزارتے ہیں ، تو ہمارے وجود میں بھی ایک حسن پیدا ہوتا ہے یہ وہ آدھا حسن نہیں ہوتا یعنی جس میں اختیار کچھ نہیں ہوتا بلکہ یہ وہ حسن ہوتا ہے جس میں ہمارا اختیار بھی ہوتا ہے۔غرض جیسا کہ میں نے شروع میں اشارہ کیا تھا نوع انسان کا جو درخت ہے وہ ہم سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اپنی شاخ کو کج نہ بنانا، اپنی شاخ کو نیم مردہ نہ بنالینا اپنی شاخ میں بہار ہی رکھنا تا کہ میرے درخت وجود یعنی نوع انسان کے وجود پر کوئی دھبہ نہ آجائے ، کوئی اعتراض نہ پیدا ہو کہ دیکھو درخت تو اچھا تھا، اشرف المخلوقات کا درخت تو بہترین تھا لیکن اس کی بعض پتیاں