خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 599 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 599

خطبات ناصر جلد دہم ۵۹۹ خطبہ نکاح ۱۰ / جون ۱۹۷۲ء قرآن کریم پر ایمان لائے اور قرآن کریم کی ہدایت کو اس معنی میں سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے درخت وجود کی سب شاخوں کی پرورش کرنے والا ہے پس یہ فرق ہے اگر درخت کی مثال ہو تو نہایت خوبصورت درخت بنے گا اور اگر نوع انسانی کے ایک درخت کی شاخ کی مثال ہو تو وہ خوبصورت شاخ بنے گا۔جس درخت کی ساری ہی شاخیں خوبصورت ہوں۔وہ درخت لازمی طور پر خوبصورت ہوگا۔جس درخت کی ساری شاخیں خوبصورت نہ ہوں لیکن جو شاخیں خوبصورت ہوں گی۔وہ انسانی نگاہ کو اپنی طرف جذب کریں گی۔مگر جن شاخوں کے اندر کجی ہے۔پتوں پر مردنی چھائی ہوئی ہے۔وہ مرجھائے ہوئے ہیں۔ان کے اندر کوئی رونق نہیں ہے۔کوئی سبزی نہیں ہے وہ جاذب نظر نہ ہوں گی اسی طرح جہاں تک انسان کا تعلق ہے اس کے اندر اللہ تعالیٰ کے پیار کے نتیجہ میں رونق پیدا ہوتی ہے اگر اس کے اندر یہ حسن اور بشاشت نہیں ہے تو پھر جس طرح درخت اور اس کی ٹہنیاں اپنے طور پر خوبصورت ہونے کے باوجود مجموعی طور پر بدصورت بن جاتی ہیں۔انسان بھی خوبصورت نہیں رہتا۔درخت تو حکم کا بندہ ہے۔حکم کے مطابق کام کرنے والی ایک مخلوق ہے۔قانون قدرت کے مطابق اس کی شاخوں اور پتوں کی پرورش ہوتی ہے۔لیکن انسان کلی طور پر حکم کا بندہ نہیں۔انسانی زندگی کے بعض حصے تو ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ان سے بچ نہیں سکتا۔مثلاً انسان زمین سے باہر گیا لیکن اسی زمینی ہوا سے وہ آزاد نہیں ہو سکا۔یعنی یہ زمینی ہوا جس میں آکسیجن اور دوسری گیسوں کا ایک خاص توازن پایا جاتا ہے، وہ اسے اپنی زندگی کی بقا کے لئے ساتھ لے کر گیا۔کیونکہ پچاس ہزارفٹ کی بلندی پر جو ہوا ہے اس میں انسانی پھیپھڑے سانس نہیں لے سکتے۔غرض انسان اس زمین میں خاص قسم کا پانی پیتا ہے اور خاص قسم کی ہوا لیتا ہے۔پھر خاص قسم کے کھانے کھاتا ہے پھر ان سب چیزوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک خاص توازن کو قائم کیا ہے۔توازن کا یہ اصول بہت ضروری ہے۔اب اگر ایک شخص یہ کہے کہ میری مرضی ہے میں کچھ کھاؤں نہ کھاؤں اور پھر بھی زندہ رہوں تو یہ ناممکن ہے دراصل انسانی جسم مجھے انسانی وجود کہنا چاہیے کیونکہ میرے سامنے انسان کا مادی جسم اور روح ہر دو ہیں۔