خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 591 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 591

خطبات ناصر جلد دہم انسان کے لئے ناممکن ہے۔۵۹۱ خطبہ نکاح ۲۱ رمئی ۱۹۷۲ء پھر جہاں تک سینتھیٹک (Synthtic) ادویہ کا تعلق ہے۔لوگ ان چیزوں کو بنا تو لیتے ہیں۔مگر ان میں اس چیز کی ساری خصوصیات نہیں ہوتیں۔مثلاً کونین کی بجائے ایک سینتھیٹک دوائی بنائی گئی لیکن اس میں کونین کی خصوصیات کا کروڑواں حصہ بھی نہیں آیا۔میں کروڑواں حصہ بھی نہیں آیا، اس لئے کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر خلق میں غیر محدود صفات پائی جاتی ہیں لیکن انسان نے جوسینتھیٹک چیز بنائی ہے، اس میں اس کے اپنے علم اور دعوئی کے مطابق بھی بڑی ہی محدود صفات پائی جاتی ہیں۔پس جب خودان کے قول کے مطابق کونین کی جگہ سینتھیٹک دوائی میں چند صفات پائی جاتی ہیں تو پھر اس نے اصل کو نین کے ساتھ کیا مقابلہ کرنا ہے۔چکر لگا کر میں پھر وہیں چوہدری صاحب کے ذکر پر آجاتا ہوں۔یہ جو خلق ہے اس کا ازدواجی رشتوں کے اندر بھی مظاہرہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس رشتے کو نئی پیدائش کا ذریعہ بھی بناتا ہے اور نئی ذمہ داریاں بھی ڈالتا ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی خلق مثلاً گلاب کا پودا ہے پھر اس کی خلق یعنی گلاب کا پھول نکلتا ہے جو آہستہ آہستہ ارتقائی مدارج میں سے گذرتا ہے اس کی شکل بدلتی رہتی ہے۔پہلے یہ کی بنتا ہے اور پھر ایک کے بعد دوسری پتی کھلتی ہے۔گویا ہر آن اس کی شکل بدل رہی ہے۔یہی حال ازدواجی رشتوں کا ہے درحقیقت ان کی بھی ہر آن شکل بدل رہی ہے۔کیونکہ ہر دو یعنی میاں کے بھی اور بیوی کے بھی تجربے میں کچھ زیادتی ہورہی ہے اور پھر کا مپرومائز (Compromise) کی ایک نئی شکل پیدا ہورہی ہے۔اور نئے تجربات کو نئے طور پر زندگی میں سمویا جا رہا ہے۔پس اس صورت میں ہر وقت کی ذمہ داری بھی ہے میاں کی بھی اور بیوی کی بھی۔اس لئے یہ جو سموئے جانے کا عمل ہے اسے صحیح طور پر جاری رہنا چاہیے تا کہ ارتقا کی جو منازل طے کرنی ہیں وہ صحیح طور پر طے کی جائیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ایسی ذمہ داریوں کے نباہنے کی توفیق عطا فرمائے اور