خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 37 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 37

خطبات ناصر جلد دہم ۳۷ خطبہ عیدالفطر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء کر دے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے اس وقت نامردی نہ دکھلا دیں اور بزدلوں کی طرح پیچھے نہ ہیں اور وفاداری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ نہ ڈالیں ذلت پر خوش ہو جا ئیں موت پر راضی ہو جا ئیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے۔نہ اس وقت خدا کی بشارتوں کے طالب ہوں کہ وقت نازک ہے اور باوجود سراسر بیکس اور کمزور ہونے کے اور کسی تسلی کے نہ پانے کے سیدھے کھڑے ہو جائیں اور ہر چہ بادا باد کہہ کر گردن کو آگے رکھ دیں اور قضاء وقدر کے آگے دم نہ ماریں اور ہر گز بے قراری اور جزع فزع نہ دکھلا وہیں جب تک کہ آزمائش کا حق پورا ہو جائے یہی استقامت ہے جس سے خدا ملتا ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی خاک سے اب تک خوشبو آ رہی ہے۔غرض یہ ہے وہ استقامت جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے اور اس استقامت کے لئے ہم نے حقیر کوششیں بھی کرنی ہیں اور عاجزانہ دعاؤں میں بھی لگے رہنا ہے کیونکہ اس کے بغیر ہمیں ابدی اور دائمی جنت اور لذت اور سرور حاصل نہیں ہو سکتا۔خدا کرے کہ ہم اس میں کامیاب ہوں۔خدا کرے کہ ہماری روح ہمیشہ ہی پگھل کر آستانہ الوہیت پر بہتی رہے اور اس کے بے پایاں فضل اور خوشی کا دن ہمیں نصیب ہو جس طرح آج اس کے حکم سے اور اس کی رضا سے ہم عید منا رہے ہیں۔عید کی خوشی کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی ہے۔حضرت انس بن مالک نے اس حدیث میں یہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عید کی صبح کو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ تم زمین پر اتر و اور میری طرف سے دنیا کو یہ منادی سناؤ چنانچہ وہ آتے ہیں اور ایسی آواز میں یہ بات ساری مخلوق کو بتاتے ہیں کہ درخت بھی اس کو سن رہے ہیں اور جانور بھی اس کو سن رہے ہیں اور پتھر بھی اس کو سن رہے ہیں۔زمین کا ذرہ ذرہ اسے سن رہا ہے لیکن انسان اسے نہیں سن رہا ہوتا۔وہ کہتے ہیں یا اُمَّةَ مُحَمَّدٍ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ! عید کی نماز کی ادائیگی کے لئے تم اپنے گھروں سے عید گاہ کی طرف نکلو کیونکہ اللہ عز وجل تھوڑے کو قبول کرتا اور بہت عطا کرتا ہے