خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 544 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 544

خطبات ناصر جلد دہم ۵۴۴ خطبہ نکاح ۳ ستمبر ۱۹۷۰ء اسے ایک پھلدار درخت کے پاس لے گیا اور میں نے اس سے کہا کہ اگر ہم اس چھوٹی ٹہنی پر پیوند کریں تو زیادہ کامیاب ہوگا یا موٹے تنے پر پیوند کریں تو زیادہ کامیاب ہوگا۔وہ بڑا ذہین آدمی تھا۔اتنا ہی جب میں نے کہا تو وہ کہنے لگا مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا ہے۔یہاں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ بعض حالات سے مجبور ہو کر اور بعض خاندان اپنی نالائقی یا جہالت کے نتیجہ میں لڑکیوں کو بٹھائے رکھتے ہیں جب وہ تیس پینتیس سال کی ہو جاتی ہیں تو کہتے ہیں رشتہ ڈھونڈھ کر دو۔موٹی ٹہنی پر بعض دفعہ پیوند کامیاب تو ہوجاتا ہے یہ تو درست ہے لیکن خواہ مخواہ بچی کو ابتلا میں ڈالنا یہ درست نہیں ہے۔بڑی مشکل پیش آتی ہے۔کئی دفعہ لڑکیاں اسی طرح کنواری کی کنواری رہ جاتی ہیں۔یہ سراسر غیر طبعی زندگی ہے۔انسان کی طبعی زندگی یہ ہے کہ وہ اکیلا نہ رہے پیوندی درخت کی طرح اس کا تعلق قائم ہو اور خاندان کی صورت میں میاں بیوی مل کر یک جان ہو کر ایک درخت کی طرح زندگی گزار ہیں۔اب درخت میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ درخت کے مختلف حصے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قانون اور اس کی خواہش اور منشا کے مطابق مختلف کام کر رہے ہیں۔انسان کو تھوڑی سی آزادی دی ہوئی ہے۔درخت کی جڑیں ہیں۔اس کی ٹہنیاں ہیں اس کے کھانے کا انتظام ہے جس طرح انسان کے لئے کھانے کی ضرورت ہے اسی طرح درختوں کو بھی ضرورت ہے اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے انتظام کیا ہے درخت کو پیاس بھی لگتی ہے۔البتہ انسان کی پیاس کے مقابلے میں اس کے پینے کا مختلف شکل میں انتظام کیا ہے لیکن بہر حال اسے پیاس بھی لگتی ہے اور اس کے لئے پینے کا بھی انتظام کیا ہے۔بعض حصے ایسے ہیں جن کے اوپر درخت کی بقاء کا انحصار ہے وہ اس کی جڑیں ہیں۔میاں بیوی کے رشتے سے جو دو وجود ایک جان بنتے ہیں اس میں خاوند پر یہ ذمہ واری ڈالی گئی ہے جس کا قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ ہے۔الرّجالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء : ۳۵)۔ویسے تو قرآن کریم کی آیات کے بے شمار معانی ہوتے ہیں لیکن اس آیہ کریمہ میں لفظ قوام کے یہ معنے نہیں ہیں جیسا کہ بعض بیوقوف لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمیں اختیار دے دیا گیا ہے کہ جس طرح مرضی بیویوں سے سلوک کریں۔یہ غلط ہے دراصل اس رشتہ کو قائم رکھنے کی ذمہ واری خاوند