خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 543 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 543

خطبات ناصر جلد دہم ۵۴۳ خطبہ نکاح ۳ رستمبر ۱۹۷۰ء انسان کی طبعی زندگی یہ ہے کہ وہ اکیلا نہ رہے خطبہ نکاح فرموده ۳ ستمبر ۱۹۷۰ء بمقام ذاتی رہائش گاہ ایبٹ آباد حضور انور نے محترمہ بشری صفدر صاحبہ بنت محترم میجر محمد صفدر صاحب کا کول کے نکاح کا اعلان فرمایا۔یہ نکاح دس ہزار روپے حق مہر پر محترم کیپٹن نذیر احمد صاحب ابن مکرم محمد فریدون خان صاحب آف شیخ البانڈی سے قرار پایا ہے۔حضور انور نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا:۔جس طرح درخت کو پیوند لگایا جاتا ہے اور دو درخت ایک جان بن کر ایک ہی درخت کی شکل میں دنیا میں زندگی گزارتے اور اچھے پھل لاتے ہیں۔یہی حال ازدواجی رشتوں کا ہے۔جب میں انگلستان میں پڑھا کرتا تھا ایک جرمن ہماری انگلستان کی مسجد میں آئے وہ ابھی عیسائی تھے۔اتفاقاً میں بھی ایک دن کی چھٹی پر آکسفورڈ سے وہاں آیا ہوا تھا۔گرمیوں کے دن تھے موسم اچھا تھا۔ہم باہر ٹہل رہے تھے وہ مجھ سے مختلف باتیں پوچھ رہا تھا۔باتوں باتوں میں وہ کہنے لگا کہ آپ لوگ بڑی چھوٹی عمر میں لڑکے لڑکیوں کا نکاح کر دیتے ہیں۔اس کی ہمیں سمجھ نہیں آتی۔کیونکہ ابھی تو وہ میچور (Mature) نہیں ہوئے ہوتے۔حالانکہ ان کے ہاں بڑی لمبی کورٹ شپ چلتی ہے اور اکثر ناکام ہوتی ہے۔بہر حال اس نے جب مجھ سے یہ سوال کیا تو میں