خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 518 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 518

خطبات ناصر جلد دہم ۵۱۸ خطبہ نکاح ۹ جنوری ۱۹۷۰ء کر میرے تجربہ میں بڑی وسعت کے مواقع پیدا کئے اور دیہات میں رہنے والوں کے لئے میرے دل میں جو لگا و پوشیدہ تھا اس لگاؤ کو ظاہر ہونے کا موقع ملا۔اب بھی میں ایک سادہ دیہاتی سے جب بھی مجھے اس سے ملاقات کا موقع ملتا ہے۔بے تکلف بات کرنے میں جو خوشی محسوس کرتا ہوں وہ خوشی میں ایک شہری سے ملاقات کے وقت محسوس نہیں کرتا۔کیونکہ شہریوں کو تکلف کی عادت پڑی ہوئی ہوتی ہے اور ان کی اس عادت کی وجہ سے ان سے ملاقات کے وقت بغیر جانے بو مجھے ہم بھی تکلف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔بہر حال آج میرے اس محسن بزرگ کے نواسہ کی شادی ہے اور اس کے نکاح کا اعلان میں اس وقت کروں گا۔دوست دعا کریں کہ جس طرح ہمارے بڑوں نے بے لوث اور بے نفس خدمت خدا کے دین کی کی ہے وہی جذ بہ خدمت کا اور وہی جذبہ ایثار اور قربانی کا ان کی نسلوں میں بھی قائم رہے اور بڑا نمایاں رہے۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب وقبول کرایا اور اس کے بعد حاضرین سمیت ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے لمبی دعا فرمائی۔(روز نامه الفضل ربوه ۴ فروری ۱۹۷۰ ء صفحه ۳، ۴)