خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 500 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 500

خطبات ناصر جلد دہم مکرم مسعود احمد صاحب خورشید کراچی سے بعوض مبلغ دس ہزار روپیہ مہر۔خطبہ نکاح ۲۵ دسمبر ۱۹۶۹ء ۶ - عزیزه رشیدہ آصفه صاحبه بنت مکرم سید محمد احمد صاحب ربوہ کا نکاح مکرم کیپٹن حسین احمد صاحب ملک ابن مکرم لیفٹیننٹ کرنل ستار بخش صاحب ملک ربوہ سے بعوض مبلغ دس ہزار روپیہ مہر۔ے۔عزیزہ انیسہ نادرہ صاحبہ بنت مکرم میاں محمد یونس صاحب کوئٹہ کا نکاح مکرم محمد دانیال خاں صاحب ابن مکرم محمد عیسی خاں صاحب کوئٹہ بعوض مبلغ پانچ ہزار روپیہ مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری اور بنیادی وصایا امت مسلمہ کو فرمائی تھیں ان میں سے ایک وصیت یہ بھی تھی کہ اے لوگو تم اپنی بیویوں سے نیک سلوک کرو کیونکہ ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی گئی ہے۔فرمایا عورت چونکہ کمزور ہے اس لئے تمہارے ذمہ ہے کہ تم اپنی بیویوں کے حقوق کی نگہداشت کرو۔ان کے جو حقوق تمہارے ذمہ ہیں وہ بھی تم ادا کرو اور اگر کوئی اور بھائی ہونے کی حیثیت میں یا بہن ہونے کی حیثیت میں یا ماں ہونے کی حیثیت میں یا کسی اور حیثیت میں ان کے حقوق غصب کرے تو تمہارا فرض ہے کہ تم اپنی بیوی کی طرف سے کھڑے ہو جاؤ اور غاصب سے اس کے حقوق لے کر اسے دو۔پھر آپ نے فرمایا ! یہ وصیت جو میں تمہیں اس وقت کر رہا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت تمہیں یاد کرارہا ہوں کیونکہ کوئی بیوی اپنے خاوند پر اور کوئی خاوند اپنی بیوی پر اس وقت تک حلال نہیں جب تک اللہ تعالیٰ اجازت نہ دے پس جب تم اللہ تعالیٰ کو ضامن بنا کر عقد نکاح کرتے ہو اور اس قسم کے رشتے جوڑا کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ اس بات کا کہ عورت کو اس کے حقوق ملیں اسی طرح ضامن ہے جس طرح وہ اس بات کا ضامن ہے کہ مرد کو اس کے حقوق ملیں یہاں چونکہ عورت کا ذکر ہے اس لئے فرمایا یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت میں تم نے یہ رشتہ قائم کیا ہے اگر تم نے اس رشتہ کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کی تو تم اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہو گے۔خدا کرے کہ وہ ہمیں اس قسم کی ہر جواب دہی سے محفوظ رکھے اور خدا کرے کہ ہم عقل اور فراست سے کام لینے والے ہوں اور ان حقوق کو ادا کرنے والے ہوں جو اس نے مقرر کئے ہیں تا ہمیں اس کی رضا ہمیشہ حاصل رہے۔