خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 480

خطبات ناصر جلد دہم ۴۸۰ پسرا بن محترم چوہدری اللہ ماہی صاحب سے بعوض دو ہزار روپے حق مہر۔خطبہ نکاح ۲۸ ستمبر ۱۹۶۹ء ۷۔محترمہ شمیم اختر صاحبہ بنت محترم چوہدری دین محمد صاحب ربوہ کا نکاح فضل الہی صاحب پسر محترم فضل دین صاحب ربوہ سے دو ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج ہمارے رب رحیم نے بہت سی خوشیاں ہماری گود میں لا ڈالی ہیں۔چھ سات نکاحوں کا میں اس وقت اعلان کروں گا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ ازدواج کے قائم کرنے کے متعلق یا نکاح کا فیصلہ کرنے کے متعلق یا دولہا دلہن کے انتخاب کرنے کے متعلق یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس انتخاب یا اس فیصلہ کی بنیاد کفو پر ہونی چاہیے۔یعنی اپنے کفو میں شادی کرنی چاہیے۔جس قسم کے حالات مجموعی طور پر تمہارے خاندان کے ہوں ان سے ملتے جلتے حالات جس خاندان کے ہوں اس میں شادی ہونی چاہیے۔پس زندگی کے اس اہم موقع پر ہمیں علاوہ اور بہت سی ہدایتوں کے ایک ہدایت یہ بھی دی گئی ہے کہ جس جگہ رشتہ طے کرنا ہو ان کے حالات سے واقفیت حاصل کی جائے۔ان سے قریبی تعلقات قائم کئے جائیں اور اس طرح جب ایک دوسرے کی عادات، خیالات اور ماحول کا بخوبی علم ہو جائے۔تب جا کر شادی کا فیصلہ کیا جائے۔ہماری جماعت میں بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر جو اخوت قائم فرمائی ہے اور جو حسن ظنی اس میں ہونی چاہیے اس کے غلط استعمال کے نتیجہ میں صرف اتنا سمجھ لینا کافی سمجھا جاتا ہے کہ احمدی گھرانہ ہے اور ہمیں احمدیوں میں رشتے قائم کرنے چاہئیں۔چنانچہ کفو معلوم کئے بغیر اور حالات جانے بغیر رشتے طے کر دیئے جاتے ہیں لیکن بعض دفعہ رخصتانہ کے معاً بعد اور بعض دفعہ تو رخصتانہ سے بھی بہت پہلے ہر دو خاندانوں میں اپنی غلطی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے اور بسا اوقات اس احساس کے نتیجہ میں گناہ کی تلافی ایک حد تک تو اس طرح کر دی جاتی ہے کہ اس رشتہ کو قطع کر دیا جاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے دلوں میں کدورت پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں جماعت کی باہمی اخوت اور اس کے تعلقات جن کی بنیاد پر اس رشتہ کی ابتدا ہوتی ہے۔انہی تعلقات پر برا اثر پڑتا ہے اور کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔پھر یہ امر ہمارے لئے بھی