خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 469
خطبات ناصر جلد دہم ۴۶۹ خطبہ نکاح ۲۳ اگست ۱۹۶۹ء میں نہیں ہوتا کہ انسان کو کچھ اور کام چھوڑ کر دعا کرنی پڑے بلکہ انسان اپنا کام کرتے ہوئے بھی اپنے رب کو یا در رکھ سکتا ہے۔دنیا میں ہزاروں بزرگ ایسے گزرے ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی یاد میں بسر ہوا حتی کہ سونے کا وقت بھی دعا میں گذرا کیونکہ وہ دعا کرتے کرتے سو گئے اور جب اٹھے تو اس وقت بھی ان کی زبان پر ذکر الہی جاری تھا اس واسطے ان کے سونے کا وقت بھی دراصل دعا کرنے میں گذرا۔چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کے جو بے شمار انعامات نازل ہوئے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ کا سونے کا وقت بھی دعا اور یاد الہی میں گذرتا تھا۔اسی لئے آپ نے فرمایا ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا۔اس کے یہی معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں اور اس کے ذکر میں آپ کا (Unconscious mind) لاشعور نیند میں بھی بیدار رہتا تھا اور ہر دوسرے شخص کے(Unconscious mind)لاشعور سے کہیں زیادہ یا دخدا میں محور ہتا تھا۔بہر حال دعا کرنے کی عادت ڈالنی پڑتی ہے۔میرے خیال میں یہاں سینکڑوں نہیں تو ایسے بیسیوں دوست ضرور بیٹھے ہوں گے جو اپنے گھر سے موٹر میں اپنے دفتر جاتے ہیں۔دو ہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو یہ خود موٹر چلاتے ہیں یا ان کا ڈرائیور چلاتا ہے۔اگر ڈرائیور موٹر چلا رہا ہے تو اس وقفہ میں جو انہیں گھر سے دفتر پہنچنے تک میسر آتا ہے اس میں وہ دعا کر سکتے ہیں کیونکہ اس طرح انہیں دماغ کے غیر حاضر ہونے کا خطرہ نہیں رہتا البتہ اگر وہ خود موٹر چلا رہے ہوں تو اس صورت میں اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ کہیں دعا کرنے میں لگ گئے تو دماغ حاضر نہ رہے۔لیکن عموماً ہوتا یہ ہے کہ ان کا ڈرائیور موٹر چلا رہا ہوتا ہے اور وہ یا تو ادھر ادھر کی باتیں سوچتے رہتے ہیں یا کچھ بھی نہیں سوچتے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس عرصہ میں ان کا دماغ بہکا رہتا ہے لیکن اب اگر مثلاً وہ دوست جن جن تک میری آواز پہنچے وہ ارادہ کر لیں کہ گھر سے دفتر یا کسی اور جگہ جہاں بھی وہ جاتے ہیں اس میں جو وقت لگتا ہے اس میں وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ يَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ پڑھنا شروع کردیں اور حسب توفیق پاس، سو یا دوسو بار اس کا ورد کریں تو ان کے لئے یہ تھوڑا سا سفر بھی خیر و برکت کا موجب بن