خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 441
خطبات ناصر جلد دہم ۴۴۱ خطبہ نکاح ۹ رفروری ۱۹۶۹ء سے ہم اس کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں۔اس وقت بھی خوشی اور غم دونوں اکٹھے ہو گئے ہیں۔جب جماعتیں بڑھتی ہیں۔جب خاندان بڑھتے ہیں تو یہ بھی ساتھ لگا ہوتا ہے۔ابھی ہم نے ایک خوشی کی تقریب میں حصہ لیا۔ایک نکاح کا اعلان ہوا ہے اور اس کے معاً بعد اب میں مسجد سے باہر ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا ( یہ جنازہ محتر مہ اہلیہ صاحبہ مکرم خواجہ محمد شریف صاحب مالک خواجہ ریسٹورنٹ گول بازار ر بوہ کا تھا )۔زندگی کے ساتھ غم اور خوشی اور حیات کی مسرت اور ممات کی مسرتیں ( جانے والوں کے لئے انشاء اللہ ) اور غم اور صبر ( زندہ رہنے والوں کے لئے ) سب ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت پر بڑا فضل کیا ہے کہ اپنی توحید پر اسے قائم کر دیا ہے۔اس واسطے ہم میں سے جو جدا ہوتے ہیں ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان سے محبت کا سلوک کرے گا اور رضا کی جنتوں میں داخل کرے گا لیکن جو ہم سے جدا ہونے والے ہیں ان کے لئے طبعاً دل درد محسوس کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر جو یقین ہمیں حاصل ہے اس یقین کی بنا پر ہم خوش بھی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت کا سلوک ہوگا۔وہ ہماری خطاؤں کو معاف کرے گا اور اپنی رضا کے عطر سے ممسوح کرے گا۔اب میں باہر جنازہ پڑھاؤں گا دوست اس میں بھی شامل ہو جا ئیں۔(روز نامه الفضل ربوه ۱/۲۴ پریل ۱۹۶۹ء صفحه ۳، ۴)