خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 425 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 425

خطبات ناصر جلد دہم ۴۲۵ خطبہ نکاح ۲۹ اگست ۱۹۶۸ء اللہ کے بنائے ہوئے طریق پر اپنے دنیاوی تعلقات استوار کریں خطبہ نکاح فرموده ۲۹ راگست ۱۹۶۸ء بمقام کراچی حضور انور نے نماز مغرب وعشاء کے بعد P۔E۔C۔H سوسائٹی میں اپنی قیام گاہ الامتیاز میں سیدہ آنسہ پروین بنت محترم سیدارتضیٰ علی صاحب مرحوم کے نکاح کا اعلان مکرم کرشن احمد ولد مکرم بشیر احمد صاحب ضلع گوجرانوالہ کے ساتھ فرمایا۔حضور انور نے نکاح کا فارم ملا حظہ کرتے ہوئے مہر کی رقم دیکھ کر فرمایا کہ مہر بارہ ہزار روپیہ مقرر ہوا ہے۔آپ نے کرشن احمد صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سے مہر زیادہ تو نہیں مقرر کروایا گیا۔مہر کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ فارمولا بنایا ہوا تھا کہ مہرلڑکے کی ایک سال کی آمد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔بعد ازاں حضور انور نے نکاح کی آیاتِ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر: ۱۹) میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ اسلام نے ہم پر بڑا فضل اور رحم کر کے ہمارے سارے دنیاوی کاموں کو اگر ہم چاہیں ایسا بنا دیا ہے کہ اس پر اخروی ثواب بھی حاصل ہو جائے۔مثلاً ازدواجی محبت کے تعلقات ہیں۔اس قسم کا تعلق بہت سے جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔سارس کے متعلق مشہور ہے کہ اگر جوڑے میں سے