خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 413
خطبات ناصر جلد دہم ۴۱۳ خطبہ نکاح ۴ جولائی ۱۹۶۸ء مل جاتی ہے۔دنیا کیا ہے چند روزہ زندگی۔بے وفا اس کے سارے تعلقات۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے جب ان کی قربانیوں کو اور جب ان کے ایثار کو وہ قبول کر لیتا ہے ایسا تعلق ان سے قائم کر لیتا ہے کہ بندے اس تعلق کو توڑیں تو توڑیں ہمارا رب کبھی نہیں تو ڑتا وہ اپنے وعدوں کا سچا اپنے تعلقات میں انسان سے کہیں زیادہ وفادار ہے۔پس اس نصیحت میں صرف دوسرے رشتہ کے ساتھ ہی جس کا میں اعلان کروں گا تعلق نہیں ہر احمدی مسلمان سے اس کا تعلق ہے کہ ہمیں آج کی نسبت کل کی زیادہ فکر کرنی چاہیے اور کل کی فکر اس صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ جب ہم اپنے نفس پر اعتبار اور بھروسہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ اس تعلیم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے والے ہوں جو اس پاک ہستی کی طرف سے ہمیں دی گئی ہے جس نے ہمیں یہ انتباہ کیا کہ آج کی نسبت کل کی زیادہ فکر کرو۔انسان کی طرح اس کی عقل بھی کمزور اور ایسی نہیں جس پر ہم بھروسہ کر سکیں لیکن جو نور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ ہمیں دیا ہے اس نور پر ہم یقیناً بھروسہ کر سکتے ہیں۔جسے وہ مل جائے دنیا کی کون سی طاقت ہے جو ایسے شخص کے لئے اندھیروں کو پیدا کر سکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعائیہ اشعار میں بھی یہ کہا ہے کہ جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا مگر دین کے معاملات میں ہم واضح حقائق کو بھی بھول جایا کرتے ہیں اور بار بار یاد دلانے کی ضرورت پڑتی ہے۔جو شخص مستقبل کی معرفت رکھتا ہوا اس کے لئے تیاری کرتا اور اس تیاری کو انتہا تک پہنچاتا ہے اور اس کے لئے دعائیں کرتا ہے وہ نا کام نہیں ہوا کرتا۔اصولی طور پر مستقبل دو ہیں ایک وہ جس کا تعلق صرف اس دنیا سے ہے یعنی آٹھ دس سال کے بعد کیا کریں گے بچے بڑے ہوں گے ان کے رشتے کرنے ہیں ان کی بیاہ شادیاں کرنی ہیں کچھ پس انداز کرنا چاہیے یہ تو دنیا کا مستقبل ہے اس میں انسان کیا کر سکتا ہے۔ایک وہ مستقبل ہے جس کا تعلق اخروی زندگی کے ساتھ ہے ایسی زندگی جس کو فنا نہیں ایک ایسی زندگی جس پر ایک سیکنڈ کے لئے اللہ تعالیٰ کے غضب کی اگر نگاہ پڑ جائے تو انسان سب کچھ اس غضب سے بچنے کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔ایک ایسی زندگی کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سایہ میں گزرے تو اس دنیا کی تکلیفیں