خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 412
خطبات ناصر جلد دہم ۴۱۲ خطبہ نکاح ۴ جولائی ۱۹۶۸ء جوا اپنی اولاد کے لئے حضور نے کیں اور ان دعاؤں کو ایک شرط کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور وعدہ دیا کہ میں تیری دعاؤں کے مطابق تیری نسل سے سلوک کروں گا اور شرط یہ لگا دی کہ جب تک تیری اولا دلڑ کے ہوں یا لڑکیاں اسی طرح تیرے مقام کی اطاعت کرتے رہیں گے اور اس شان کو ظاہر کرنے والے ہوں گے جس طرح تو نے اس مقام کے لئے قربانیاں دیں تو تیری دعائیں ان کے حق میں قبول ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کی برکتوں کے وہ وارث ہوں گے۔شرط بڑی کرخت ہے اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن جن انعاموں کا وعدہ دیا گیا ہے وہ بھی معمولی نہیں۔پس اے میری عزیز بچی اگر تم اپنے قول اور اپنے فعل سے ثابت کرو گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا جو مقصد تھا وہی مقصد تمہاری زندگی کا مقصد ہے تو بے شمار نعمتوں اور فضلوں کی تم اور تمہارے خاوند اور تمہاری نسلیں اور جہاں تمہارا رشتہ ہو رہا ہے وہ خاندان حصہ لے گا اور وارث بنے گا یہ وعدہ ہے جو بہر حال پورا ہو گا لیکن اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے بھی ڈرایا ہے کہ جو باز پرس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے ایسے بچوں سے ہوگی وہ عام گرفت سے کم از کم دو گنی ہوگی۔بڑے ہی خوف کا مقام ہے ایک طرف۔اور بڑی ہی خوشی اور بشاشت کا مقام ہے دوسری طرف۔اور خدا کرے کہ یہ دوسری طرف کے مقام کی تم اور تمہاری اولا دوارث بنے اور پہلے مقام کی طرف جو مقام خوف ہے تمہاری بیٹھے ہی رہے۔دوسری عزیز بچی عبدالمجید خان صاحب کی صاحبزادی ہیں جن کا رشتہ سندھ کے ایک رئیس خاندان کے بچے سے ہو رہا ہے۔دنیا کی ریاستیں تو بے معنی ہیں یہ اس دنیا میں بھی وفا نہیں کرتی اس زندگی میں تو وفا کا تصور ہی ان کے متعلق نہیں۔لیکن ایک ریاست وہ بھی ہے کہ جو ہمیشہ وفا کرتی ہے اور ساتھ رہتی ہے اور وہ یہ ریاست ہے کہ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر : ۱۹) مستقبل کے متعلق خدا کی بتائی ہوئی تعلیم کے تحت رہتے ہوئے تیاری کرو اور اسے بھولو نہیں۔جو خدا کے اس فرمان کے مطابق مستقبل کی ریاست کی فکر کرتا ہے آج کی ریاست سے وہ آزاد ہو جاتا ہے اور کہیں بہترین ”ریاست“ اس کو