خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 411 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 411

خطبات ناصر جلد دہم ۴۱۱ خطبہ نکاح ۴ جولائی ۱۹۶۸ء جو شخص مستقبل کی تیاری کرتا اور اس تیاری کو انتہا تک پہنچاتا ہے وہ نا کام نہیں ہوا کرتا خطبہ نکاح فرموده ۴ جولائی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضرت اقدس خلیفہ امسح الثالث ایدہ اللہ تعالی نے صاحبزادی سیدہ امتہ البصیر بیگم صاحبہ بنت محترم میاں عبد الرحیم احمد صاحب اور عزیزہ منصورہ خان صاحبه بنت خان عبدالمجید خان صاحب آف ویرووال کے نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت میں دو نکاحوں کا اعلان کروں گا۔ایک تو میری اپنی بچی یعنی میری ہمشیرہ امتہ الرشید کی بچی ہیں جن کے نکاح کے اعلان کے لئے اس وقت میں کھڑا ہوا ہوں اور دوسری بچی بھی اپنی ہی بچی ہے۔ہر احمدی بچی میری اس طرح بچی ہے جس طرح اپنے ماں باپ کی بچی اور یہ جس کے نکاح کا میں اعلان کروں گا یہ سلسلہ بھی میری ہی خواہش سے شروع ہوا ہے یہ اس سلسلہ کی دوسری کڑی ہے اور میں بڑا خوش ہوں کہ اپنے ان عزیزوں کے متعلق جو بعض دفعہ مجھے تشویش میں ڈالتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے میری تشویش کو دور کیا اور ان کے حالات بڑے اچھے کر دیے وہ بھی خدا کرے خوش رہیں اور میں بھی خوش ہوں اور خدا کرے کہ خوش ہی رہوں۔جہاں تک ہمارے خاندان کے لڑکوں یا لڑکیوں کا تعلق ہے بہترین ورثہ جو ہمیں ملا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں ہیں