خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 409
خطبات ناصر جلد دہم ۴۰۹ خطبہ نکاح ۳۰ جون ۱۹۶۸ء انسانی اعمال کو اللہ کا فضل ہی اعمال صالحہ کی شکل دے سکتا ہے خطبہ نکاح فرموده ۳۰ر جون ۱۹۶۸ء بمقام مری حضور انور نے بروز اتوار پانچ بجے شام مکرم محمد جمیل صاحب چغتائی ابن مکرم محمد بشیر صاحب چغتائی آف گوجرانوالہ کے نکاح کا اعلان ہمراہ عزیزه رفعت سعیدہ صاحبہ بنت مکرم مرزا محمد حسین صاحب شملوی مرحوم آف راولپنڈی مبلغ پانچ ہزار روپیہ حق مہر پر فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کہ قُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ (الاحزاب: ۷۲،۷۱) میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ایک طرف اعمال کے بدنتائج سے سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کوئی بچا نہیں سکتا اور دوسرے یہ کہ کوئی شخص اپنی ہمت اور طاقت سے اعمال صالحہ بجانہیں لا سکتا۔اللہ تعالیٰ کا ہی فضل ہے کہ انسان کے اعمال کو اعمال صالحہ کی شکل دیتا ہے اور بد نتائج سے بچنے اور اعمال صالحہ کے بجالانے کے لئے یہاں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ اپنا معاملہ اپنے رب سے یا جن سے واسطہ پڑے صاف رکھو کوئی ایچ پیچ نہ ہو۔کوئی چھپی ہوئی چیز میں نہ ہوں۔جب تک اللہ سے اور ان سے جن سے اللہ تعالی تعلق کو قائم کرتا ہے یا تعلق قائم کرنے کی ہدایت فرماتا ہے معاملہ صاف نہ ہو۔اپنے اپنے دائرہ میں اعمال بھی اعمال صالحہ