خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 355
خطبات ناصر جلد دہم ۳۵۵ خطبہ نکاح ۲ را پریل ۱۹۶۷ء بیوی بچوں کی تربیت کی ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے خطبہ نکاح فرموده ۲ ۱۷ پریل ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر عزیزہ امتہ الرفیق شمیم صاحبہ بنت مکرم صو بیدار عبدالمنان صاحب دہلوی افسر حفاظت ربوہ کا نکاح ہمراہ مکرم نفیس احمد صاحب ابن مکرم حافظ شفیق احمد صاحب استاد حافظ کلاس ربوہ بعوض اٹھارہ صد روپیہ مہر پڑھا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ذمہ داری مرد پر رکھی ہے کہ وہ اپنے گھر کے ماحول کو اس طرح بنائے کہ اس ماحول میں اس کے بچوں کی تربیت اس رنگ میں ہو کہ وہ اسلام کے خادم بنیں اور اپنے مولیٰ کی رضا کی راہوں کی تلاش کرنے اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔ہماری جماعت میں بعض دفعہ اس قسم کے واقعات بھی پیش آتے ہیں کہ بچوں کی صحیح پرورش نہیں ہوتی اور بسا اوقات خاوند بیوی پر الزام دھر رہا ہوتا ہے حالانکہ اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو نباہتا اور اپنی بیوی کی صحیح تربیت کرتا جو بہر حال بچوں سے پہلے اس کے گھر میں آئی تھی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ اس کے بچوں کی صحیح پرورش نہ ہوتی۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔