خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 336 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 336

خطبات ناصر جلد دہم ۳۳۶ خطبہ نکاح ۲۹ نومبر ۱۹۶۶ء ناراض کرنے والی نہ ہوں اور اپنے جوارح پر بھی کنٹرول رکھو اور ان پر نگاہ رکھو کہ کہیں تم سے کوئی ایسا عمل نہ ہو جائے کہ جس سے خدا تعالیٰ ناراض ہو جائے اور وہ اپنے اس ارادہ کو جو تمہارے تقویٰ اور توحید خالص کے ساتھ مشروط ہے آپ کے لئے پورا نہ کرے۔بلکہ خدا کرے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا آپ اس کے وعدہ کی اہمیت اور اس کے نتیجہ میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے پیارے اور شفقت بھرے وعدہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے بتایا ہے آپ پر یہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ نہ آپ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو اس کا شریک بنائیں نہ کسی پر اس کے سوا بھروسہ رکھیں نہ خدا کے سوا کسی کو تکیہ گاہ بنا ئیں اور نہ خدا کے سوا کسی اور سے کوئی دینی یا دنیوی امید رکھیں صرف اور صرف خدا سے ڈریں اور اگر خدا کے مقابلہ میں دنیا کی ساری طاقتیں بھی جمع ہو جائیں۔تو وہ تمہارے دل میں خوف پیدا نہ کریں کیونکہ جس کی پشت پر خدا کی طاقت ہو وہ دنیا کی طاقتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔آپ نہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کوئی کام کریں۔اور نہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف منہ سے کوئی بات کریں۔یہ بنیادی ذمہ داریاں ہیں جو آپ پر عائد ہوتی ہیں اگر آپ ان ذمہ داریوں کو کماحقہ نبھا ئیں گے تو عظیم اور شاندار وعدے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ سے اور ہم سے کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور ہمیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے کہ خدا تعالیٰ نے جو وعدہ ہم سے کیا ہے ہم اپنے آپ کو اپنے عمل سے بھی اور اپنی زبان سے بھی اس کے قابل بنائیں اور حقیقتاً پاک اور مطھر ہو جائیں۔اس طرح ہم خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور برکتوں کے وارث بنیں جو وہ آسمان سے اپنے بندوں پر نازل کرتا ہے اور ان دعاؤں کے وارث بنیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہیں اور جو خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی ہیں۔اور اسے ان تک پہنچاتی ہیں جن کے لئے وہ دعائیں کی گئی ہیں اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کی طرف محض منسوب ہونا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اس کے بعد حضور نے ایجاب و قبول کروایا اور فرمایا دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں ( دولہا اور دلہن ) کو بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری ساری نسل کو بھی