خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 335
خطبات ناصر جلد دہم ۳۳۵ خطبہ نکاح ۲۹ نومبر ۱۹۶۶ء جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں اس میں دلہن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تیسری نسل سے تعلق رکھتی ہے اور دولہا کا تعلق دوسری نسل سے ہے یعنی عزیزہ امتہ المجیب صاحبہ مکرم صاحبزادہ مرزا احمید احمد صاحب کی بیٹی ہیں اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی پوتی ہیں اور عزیز مکرم مصطفی احمد خاں صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صاحبزادی سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ ( جو ہماری پھوپھی ہیں) کے لڑکے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔میں ان عزیزوں کو اسی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا کمانے والے بہت پیدا ہوئے ہیں بہت سے اس وقت ہیں اور بہت سے آئندہ پیدا ہوں گے۔لیکن آپ جس بزرگ ہستی کی طرف آپ منسوب ہوتے ہیں اس کی وجہ سے آپ پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔آپ میں سے ایک کا تعلق اس کی دوسری نسل سے ہے اور ایک کا تعلق اس کی تیسری نسل سے ہے۔آپ کو ان ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے جو اس تعلق کی وجہ سے آپ پر عائد ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ وہ آپ پر انعام کرے۔کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ اس کے انعام کے مستحق ہو جائیں؟ آپ کسی کو بھی خدا تعالیٰ کے سوا تکیہ گاہ مت بنائیں اور خودخدا تعالیٰ کو ہی متکفل اور رازق سمجھیں۔سوائے خدا تعالیٰ کے اور کسی سے نہ ڈریں۔صرف خدا تعالیٰ کا تقویٰ اپنے دل میں پیدا کریں اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کریں اس کی رضا کے بغیر کوئی بات اپنی زبان سے نہ نکالیں۔کیونکہ زبان کی باتیں اور جوارح کا عمل اگر صحیح نہ ہو تو اللہ تعالیٰ سے دور لے جاتا ہے۔دنیا کے میدان میں بھی ایک دنیا دار خدا تعالیٰ کا شرک کرتا ہے جب وہ اپنی تدابیر اور دنیا کے سامانوں اور سفارشوں اور رشوتوں اور لالچ اور جھوٹ پر تکیہ کرتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیتا ہے اور دین کے معاملہ میں بھی جو خدا کا نام تو لیتا ہے لیکن تقویٰ اس کے دل میں پیدا نہیں ہوتا۔آسمانی نور سے اس کا سینہ خالی ہوتا ہے اور وہ دنیا کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہوتا ہے وہ نہ تو پاک قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ اسے ان لوگوں کی طرح جو مطھر ہوں۔خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔سواے میرے عزیزو! اپنی زبانوں کو بھی سنبھال کر رکھو کہ وہ خدا تعالیٰ کو