خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 334
خطبات ناصر جلد دہم ۳۳۴ خطبہ نکاح ۲۹ نومبر ۱۹۶۶ء ان پر ایسا فضل کرے گا کہ وہ رجس اور گندگی سے پاک ہو جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس کے مقرب بن جائیں گے۔غرض جب دوسری بار یہ الہام ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی ان ذمہ داریوں کو بھی کھول کر بیان کر دیا جو اس کے نتیجہ میں پڑنے والی تھیں اور جب تیسری بار یہ الہام ہوا تو چونکہ پہلے یہ سب باتیں بیان کر دی گئی تھیں اس لئے اس الہام کی تشریح میں اس دن یا اس سے اگلے دن کوئی اور الہام نہیں ہوا۔صرف اتنا الہام ہی ہوا جو اہل بیت سے تعلق رکھنے والا تھا اور جو یہ ہے اِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہے کہ یہ تیسری مرتبہ الہام ہے۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالضَّوَابِ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس الہام کو پڑھنے کے بعد میری توجہ اس طرف پھری کہ یہ الہام تین بار کر کے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تین نسلوں کو جو یکے بعد دیگرے پیدا ہونے والی تھیں مخاطب کیا ہے پہلی بار الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی نسل کو مخاطب کیا گیا ہے اور اس وقت اس الہام کی مزید تشریح کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس نسل کی تربیت خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کرنی تھی اور آپ کی وہ نسل ان ذمہ داریوں کو جو اس الہام کے نتیجہ میں ان پر پڑنے والی تھیں خوب سمجھتی اور جانتی تھی۔اور یقین رکھتی تھی کہ ایسی بشارتیں جب کسی شخص یا کسی نسل کو دی جاتی ہیں تو وہ اس شخص یا اس نسل پر بھاری ذمہ داریاں بھی عائد کرتی ہیں جب تک وہ ان ذمہ داریوں کو نہ نبھائے وہ بشارتیں اس کے حق میں پوری نہیں ہوتیں۔غرض چونکہ اس نسل نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تربیت یافتہ ہونا تھا اس لئے ان کے لئے کسی مزید تشریح یا وضاحت کی ضرورت نہیں تھی وہ اپنی ذمہ داریوں کو خوب سمجھتی تھی۔دوسری نسل میں سے بعض کے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بشارتیں ہیں لیکن ساری کی ساری نسل کے متعلق بشارتیں نہیں اس لئے ضرورت پڑی کہ اللہ تعالیٰ خود الہام کے ذریعہ آسمان سے ان ذمہ داریوں کی وضاحت کر دے جو ان پر پڑنے والی تھیں۔تیسری نسل کو مخاطب کرتے ہوئے اس الہام کی مزید تشریح کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس کی تشریح پہلے ہو چکی تھی۔